خطبات محمود (جلد 6) — Page 438
کے متعلق فرمایا ہے۔اجتماع کے متعلق قرآن کریم میں آتا ہے۔قُل تَيْنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنس والجن ربنی اسرائیل : ۸۹ ) اس آیت میں دین کے خلاف کوشش کرنے والوں کے لیے اجتماع کا لفظ استعمال ہوا ہے اور دوسری جگہ نیک کاموں کے لیے جمع ہونیوالوں کے متعلق فرمایا۔وَاعْتَصِم من الجبل اللهِ جَمِيعاً (آل عمران (۱۰۴) اتفاق و اتحاد اپنے اصلی اور وسیع معنوں میں دُنیا میں نہیں ہو سکتا۔اور یہ حالت کسی جماعت میں پائی جانی ناممکن ہے۔اگرچہ یہ لفظ عربی زبان میں بھی استعمال ہوتے ہیں میگر مجاز و استعارہ کے طور پر۔اور قرآن کریم نے جو لفظ بیان فرماتے ہیں۔ان میں جیسی خوبی ہے۔وہ دوسرے الفاظ میں نہیں ہے کیونکہ ان میں بتا دیا گیا ہے کہ انسان کسی حدتک جمع ہو سکتے ہیں بلکہان میں یہ بی بتا دیاگیا ہے کہ لوگوں کے جمع ہونے کی کیا غرض اور کیا غایت ہے مثلا اعتصام بحبل اللہ کے الفاظ جونیکی کیلئے مستعمل ہیں اپنے اندر تمام باتیں رکھتے ہیں۔اتحاد و اتفاق کیا ہے۔لوگوں کا ہم شکل۔ہم آواز ہو جانا۔ان کے اخلاق - علوم - لباس - عادات - انگیں عمریں۔چنا۔بیٹھنا۔غرض کہ ہر بات ا ایک ہو جانا، لیکن تمام دنیا یا ایک قوم یا ایک ملک کے لوگوں کا ایسا ہونا تو ایک طرف رہا۔دو شخص بھی اس قسم کے نہیں مل سکتے، خواہ دو شخصوں میں کتنی ہی یگانگت ہو۔پھر بھی ان دونوں میں بہت سی باتوں میں اختلاف ہوگا۔ایک قد اور ایک عادت۔ایک رسم کے پابند اور ایک لباس ایک زبان ہونا بالکل ناممکن ہے۔مذاہب میں بھی یہ بات نہیں ہو سکتی۔اجمالی طور پر تو ہو سکتا ہے مگر مفصلاً نہیں ہو سکتا۔اور روحانیات میں بھی ایک دوسرے میں اختلاف ہوتا ہے۔ہم صحابہ میں دیکھتے ہیں کہ با وجود بدرجہ انتہا متحد ہونے کے ایسا اختلاف ان میں بھی تھا۔پھر خدا تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز میں بھی اختلاف موجود ہے ثلا انسان کا انگوٹھا ہے کتنی چھوٹی چیز ہے۔مگر کسی انسان کے انگوٹھے کے نشان دوسرے شخص کے نشان سے ہرگز نہیں ملتے اور خواہ کوئی شخص کتنے ہی قریب کرے اپنے انگوٹھے کے نشان کو نہیں بدل سکتا ہیں جب ساری دُنیا میں اختلاف ہے۔اور خدا کی ساری مخلوق میں اختلاف ہے اور کوئی ایک چیز دوسری سے ایسی نہیں ملتی کہ ن میں کچھ نہ کچھ فرق نہ رہے۔تو پھر جس قسم کا لوگ اتفاق چاہتے ہیں وہ کیسے ہو سکتا ہے۔اور ساری دنیا ایک رنگ میں کیسے رنگی جاسکتی ہے۔پھر جبکہ اسی اختلاف کی وجہ سے دنیا علوم و فنون میں ترقی کر رہی ہے۔اور یہی وہ چیز ہے۔جو مختلف قابلیت کے لوگوں کی قابلیتوں کا اظہار کرتی ہے۔اس نے محمد علم کومحمدصلی الہ علیہ وسلم بنایا اور اسی نے ابو جل کو الو بیل بنایا پس اختلاف تو ترقیات کا زینہ ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ جس قسم کا لوگ اتفاق بتاتے ہیں۔ایسا نہ ہو سکتا ہے اور نہ کوئی مفید چیز ہے، بلکہ اصل اتفاق کیا ہے۔یہ کہ ایک مرکز پر جمع ہو جانا اور کچھ