خطبات محمود (جلد 6) — Page 437
م کیا ہے ؟ اس کے حصول کے کیا ذرائع ہیں جب تک یہ باتیں معلوم نہ ہوں۔اس پر ایمان کیسے حاصل ہو سکتا ہے۔اس میں سب سے پہلے اس کی تشریح کو لیتا اور دکھاتا ہوں کہ اتفاق کیا ہے۔کیونکہ سب سے پہلے اگر نہیں یہی معلوم نہ ہو کہ اتفاق ہے کیا چیز تو ممکن ہے۔اس کی تعریف معلوم نہ ہونے سے پہلے ہم خیال کرنیں کہ ہم میں اتفاقی ہے۔در آنالیکہ نہ ہو یا در حقیقت ہو۔مگر تعریف نہ معلوم ہونے سے ہم کہیں کہ اتفاق نہیں ہے۔جیسا کہ سویا ہوا بچہ جب رونے لگے۔اور اس کو غیر عورت بھی تھیک دے، تو وہ خاموش ہو کر پھر سو جاتا ہے۔اور خیال کر لیتا ہے کہ میری ماں میرے پاس ہی ہے۔پس اسی طرح تشریح معلوم نہ ہونے کے باعث ممکن ہے کہ تم غلطی میں پڑ جائیں یا کسی غیر مکمل بات پر خوش ہو جائیں اس سب سے پہلے اس بات کا معلوم ہونا ضروری ہے کہ اتفاق و اتحاد ہے کیا چیز اس کے لیے ہمیں دیکھنا چاہیئے کہ قرآن کریم نے اس مطلب کے لیے کونسے الفاظ رکھے ہیں۔سو ہم دیکھتے ہیں کہ اتفاق و اتحاد کے الفاظ جن معنوں اور مطلب کے لیے ہمارے ہاں استعمال ہوتے ہیں۔اس مطلب کے لیے قرآن کریم میں اجتماع اور اعتصام بحبل اللہ کے الفاظ مستعمل ہیں۔عام طور پر ہماری زبان میں اتفاق کا لفظ ملکر رہنے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔اور اس کے مقابلہ میں اختلاف افتراق - تفرقہ - شقاق وغیرہ الفاظ ہیں۔اور قرآن کریم میں جمع ہونے اور ملنے کے لیے اجتماع اور اعتصام بحبل اللہ میں مگر اتحاد و اتفاق کے جو اصلی معنی ہیں۔وہ یہ ہیں کہ ایک ہو جانا ایک چیز کا دوسری کے بالکل مطابق ہو جانا۔وفق کہتے ہیں ایک چیز کا دوسری کے ساتھ ایسا مل جانا کہ ایک ہی نظر آئے، اسلیئے آدمیوں کا اتفاق یہ ہو گا ہ مل جائے ایک کی رائے دوسرے سے مل جاتے اور نہ صرف رائے بلکہ میتیں مل جائیں۔فوائد مل جائیں۔یہ اتفاق ہوتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ دو چیزوں کا ایک بننا ناممکن ہے۔اتفاق کا مطلب یوں سمجھو کہ جیسے پانی میں کھانڈ دا دی جائے کہ ان دونوں چیزوں کو ہم ملیحدہ نہیں کر سکتے مگر اس طرح کی بات انسانوں میں پیدا ہونا ناممکن ہے۔لیکن اس کے مقابلہ میں قرآن کریم نے جو الفاظ رکھے ہیں۔ان کا مطلب یہ ہے کہ بہت سی روحوں کا ایک مرکز پر جمع ہو جانا۔جیسا کہ اجتماع اور اعتصام بحبل اللہ کے معنی ہیں۔اور اس کے مقابلہ می شقاق مرکز سے دُور ہو جانا۔اختلاف اور تفرقہ کے بھی یہی معنے ہیں کہ فاصلہ پڑ جانا۔غرض اس مطلب کے لیے بہترین الفاظ وہی ہیں جو قرآن کریم نے استعمال فرماتے ہیں۔قرآن نے لفظ اجتماع غیروں کے لیے استعمال کیا ہے کہ جو انبیاء اور ان کی جماعتوں کے مقابلہ میں حق کی مخالفت کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں۔اور اعتصام بحبل اللہ نیک کاموں کے لیے جمع ہونے