خطبات محمود (جلد 6) — Page 417
جان نکلتی ہے۔مگر برادری میٹھی ہوتی ہے۔جو اسے کہتی ہے۔چندہ دور کوئی ادھر سے طعن دیتا ہے کوئی ادھر سے ایسی حالت میں وہ ان کے طعنوں سے متاثر ہو کر خدا تعالیٰ کی راہ میں بنی نوع انسان کی خدمت کے لیے کچھ روپیہ دید یتا ہے۔تو خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ کسی نیکی کا مستحق نہیں ہے کیونکہ اس نے اگر کچھ دیا ہے تو لوگوں کے طعنوں سے مجبور ہو کر اور زمانہ کے حالات سے تنگ آکر نہ کہ اپنی مرضی اور خواہش سے خدا کی رضا حاصل کرنے کے لیے۔اسی طرح اگر کوئی صدقہ دیتا ہے تو وہ بھی اصلی صدقہ نہیں۔یا ایک ایسا شخص ہے جو ایسے گھرانے میں پیدا ہوا جس کے مرد و عورت جوان اور بوڑھے نمازی ہیں۔اور وہ دن رات انھیں نماز پڑھتے دیکھتا ہے۔اور ان کے مونہوں سے سنتا ہے کہ نماز نہ پڑھنے والا انسان سخت گنگا ر ہوتا ہے۔دن رات اس کے کانوں میں یہ آوازہ آتی ہے کہ جو نماز نہیں پڑھتا وہ سخت نفرت کے قابل ہے۔ان حالات میں اگر وہ نماز پڑھتا ہے تو خدا تعالے اسے کوئی فائدہ نہیں دیگا۔کیونکہ وہ اس لیے نہیں پڑھتا کہ نمازہ کی محبت اس کے دل میں ہے اور خدا تعالیٰ کے خوف اور ڈر سے پڑھتا ہے۔بلکہ اس لیے پڑھتا ہے کہ اس کے ماں باپ بہن بھائی عزیز رشتہ دار نماز کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔اور وہ سمجھتا ہے کہ اگر میں نماز نہ پڑھوں گا۔تو ان کی نظر سے گر جاؤں گا پس وہ جو اس طرح عبادت گزارتا ہے۔اور ممکن ہے کہ شہد بھی پڑھے سے اس کی حالت اس شخص سے گری ہوئی ہوگی۔جو صرف دن رات میں ایک ہی نمازہ اخلاص پڑھے۔یہ گنہگار ہوگا، لیکن اس کی ایک نمازہ اخلاص کی نماز ہو گی۔اور اس کی پانچوں نمازیں مجبوری سے ہوں گی اس لیے اس کی ایک نماز بھی نہ ہوگی۔تو عمل وہی قابل قبول ہوتا ہے، جو خود نخود کیا جاتے اور جو کام مجبوری سے کیا جائے۔وہ ہرگنہ قابل قبول نہیں ہوتا۔یہ تو مجبوری کی ایسی مثالیں ہیں جنہیں ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے مگر بعض ایسی مخفی مجبوریاں بھی ہوتی ہیں۔جن کو واقف اور عارف لوگ ہی جانتے ہیں۔دوسرے نہیں جانتے۔دوسرے سمجھانے سے ہی سمجھ سکتے ہیں۔عام لوگ انہیں مجبوریاں نہیں سمجھتے۔مگر جب غور سے دیکھتے ہیں۔تو معلوم ہو جاتا ہے کہ مجبوریاں ہیں۔اس وقت میں جس امر کے متعلق بیان کرنا چاہتا ہوں۔وہ یہ ہے کہ ہر نیا کام لوگوں میں جو جوش و خروش پیدا کر دیتا ہے۔وہ مجبوری کے ماتحت ہوتا ہے۔کوئی نیا فرقہ ہو اس کے پیرو دوسروں سے زیادہ عبادت کرنے والے ہونگے وجہ کیا۔وہی مجبوری۔وہ لوگ چونکہ اپنے عزیزوں رشتہ داروں اور متعلقین کو چھوڑ کر اس فرقہ میں داخل ہوتے ہیں۔اس لیے انہیں یہ مجبوری ہوتی ہے۔