خطبات محمود (جلد 6) — Page 416
78 جماعت احمدیہ اپنے جوش کو حقیقی ثابت کرے د فرموده ۱۰۹ پریل نشئه بمقام سیالکوٹ: حضور انور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ پڑھنے کے بعد سورۃ یوسف کی چند ابتدائی آیات تلاوت کر کے فرمایا :- دنیا میں دو قسم کے زمانے انسان پر آتے ہیں۔اور دو ہی قسم کی حالتوں سے انسان گزرتا ہے۔ایک تو و زمانہ اور وہ حالت ہوتی ہے کہ جس میں زمانہ مجبور کر کے اس سے بعض اعمال کراتا ہے، یعنی زمانہ اسے بعض اعمال کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔یہ ایسی حالت ہوتی ہے کہ اگر وہ فعل اچھا ہو، تو اسکے کرنے والا قابل تحسین سمجھا جاتا ہے۔اور اگر برا ہو تو اس کے کرنے والا اتنی بڑائی کا مجرم نہیں ہوتا جتنی حقیقت میں وہ ہوتی ہے کیونکہ گو وہ فعل بُرا ہوتا ہے مگر یہی سمجھا جاتا ہے کہ مجبوری سے یا عادت کی وجہ سے کیا گیا ہے اس لیے اس حد تک ایسے فعل کی بڑائی نہیں پہنچتی جہاں تک کہ جان بوجھ کر کوئی برا فعل کرنے کی پہنچتی ہے۔تو انسان پر ایک حالت اور ایک زمانہ ایسا آتا ہے۔جبکہ وہ مجبوریوں کے ماتحت کوئی فعل کرتا ہے لیکن ایک زمانہ ایسا بھی آتا ہے۔جبکہ اس کی مجبوریاں جاتی رہتی ہیں۔اس وقت اگر وہ اپنے ذوق وشوق محبت و اخلاص سے نیکی کرتا ہے۔تو وہ اس کی اصلی نیکی سمجھی جاتی ہے۔اس وقت اگر تقوی اللہ اختیار کرتا ہے۔تو وہ تقویٰ ہوتا ہے۔اس وقت اگر عبادت کرتا ہے۔تو وہ اصل عبادت ہوتی ہے۔کیونکہ اس وقت وہ اپنے اختیار اور خلوص سے یہ اچھے کام کرتا ہے، لیکن جو زمانہ سے مجبور ہو کر اچھے کام کئے جاتے ہیں۔دہ گو اچھے ہوتے ہیں۔مگر وہ انسان کے روحانی درجہ کی ترقی میں محمد اور معاون نہیں ہوتے اور اس وقت تک نہیں ہوتے۔جب تک انسان اس حد تک نہ پہنچ جاتے کہ اسے کوئی مجبوری ہو یا نہ ہو۔اپنے ذوق وشوق سے نیکی کرے۔مثلاً ایک شخص اپنے رشتہ داروں کی مجلس میں بیٹھا ہے۔اس کا دل بخل اور کنجوسی سے بھرا ہے۔اس کے ذرہ ذرہ میں مال و دولت کی محبت سماتی ہے۔کسی کو ایک پیسہ دیتے ہوئے