خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 405 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 405

اندر مجھے دو دو ڈھائی ڈھائی گھنٹے تک بولنا پڑا۔مگر وہاں یہ بات نہ تھی۔مگر یہ بھی ایک خدا کا نشان ہے کیونکہ وہ کام خدا کا تھا۔اور اس لیے وہاں اس قسم کی رو کاٹے پیدا نہیں ہوئی۔مگراب چونکہ وہ کام ختم ہو گیا ہے۔اس لیے اب لفظ بھی مشکل سے زبان سے نکلتا ہے۔یہ خدا تعالیٰ کا فضل اور اس کی تائب ہے وہاں علاوہ لیکچروں کے چودہ چودہ اور پندرہ پندرہ گھنٹے تک متواتر مجھ کو بولتے رہنا پڑا۔مگر وہاں تکلیف نہیں ہوتی۔لیکن واپس آنے پر تکلیف ہونا یہ ایک نشان ہے۔اگر چہ میں وہاں علاج کے لیے گیا تھا، لیکن علاج کرانے کا موقع ہی نہ ملا۔آخر ایک دن جو فرصت کا تھا۔اس میں مجھے تکلیف محسوس ہونے لگی۔اس پر میں نے ایک اور کچھ رکھ دیا۔چنانچہ چنتے وقت میں نے تقریر کی۔اور اچھی طرح کی لیکن جب میں بٹالہ پہنچا تو تکلیف محسوس ہوئی۔اور کسی قدر بخار بھی ہو گیا۔اس سے میں نے سمجھا کہ وہاں چونکہ دوسروں میں کام کرنا تھا۔اس لیے خدا تعالیٰ نے مجھے صحت میں رکھا۔اور جب وہ کام ختم ہو گیا۔تو پھر پہلی سی تکلیف ہو گئی۔اس سے ظاہر ہے کہ چونکہ یہ سلسلہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔اس لیے اس سلسلہ کو غیروں تک پہنچانے والا خدا کی نصرت دیکھتا ہے۔ورنہ عقل میں نہیں آتا کہ ایک شخص حلق کے علاج کے لیے جاتا ہے۔اور وہاں چار دن تک گاڑی آتی ہے لیکن ہر روز ڈاکٹر سے ملاقات کا وقت گزر جاتا ہے اور پھر آئندہ پر اس کو اُٹھا رکھنا پڑتا ہے۔گو یہ بات سمجھ میں ہی نہیں آتی کہ ایسی تکلیف میں جیسی کہ مجھے ہے۔لیکچر کس طرح دیتے جا سکتے ہیں۔چنانچہ ایک ہندو ایڈیٹر سے ہمارے دوست ملنے کے لیے گئے اس نے کہا کہ مجھے بھی وہی تکلیف ہے جو مرزا صاحب کو ہے۔اور میں جانتا ہوں کہ اگر میں بولوں تو یہ تکلیف بڑھ جاتی ہے۔آپ لوگ کیوں مرزا صاحب سے گزارش نہیں کرتے کہ وہ لیکچر نہ دیں۔بلکہ آرام کریں۔مگر اس کو کیا معلوم ہے کہ حلق تو بیشک بیٹھتا اور بیماری پر بولنے کا اثر ہوتا ہے۔مگر میں جانتا ہوں کہ اگر اس وقت بھی سلسلہ کی تائید اور اسلام کی صداقت کے لیے میں ایسے لوگوں کی مجلس میں جو سننے کے مستحق ہوں۔کھڑا ہوں۔اور مجھے خدا کی عظمت و جلال کے لیے اب بھی بولنا پڑے۔تو میں گھنٹوں بولتا چلا جاؤں گا۔اور میری زبان نہیں رکے گی۔پس جو کوئی دین کی خدمت کے لیے کھڑا ہوگا۔وہ خدا کے نشان دیکھے گا۔وہ لوگ غلطی کرتے ہیں۔جو کتے ہیں کہ ہما را علم کافی نہیں۔انھیں معلوم ہو کہ ہمارے علم کچھ نہیں کرتے۔جو کرنا ہے خدا کے علم نے ہی کرنا ہے۔مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے پہلے علم بھی تھا۔دماغ بھی تھے۔قرآن بھی تھا مسیح موعود کون نئی چیز نہیں لاتے۔مگر فرق صرف یہ ہے کہ پہلے خدا کی نصرت نہ تھی۔اب مسیح موعود کے ذریعہ خدا کی