خطبات محمود (جلد 6) — Page 404
بلکہ اس کا مدد گار اس کا خدا موجود ہے۔پھر وہ یقین رکھتا ہے کہ میں جب چاہوں اس علاج کو استعمال کر سکتا ہوں۔اور وہ دیکھتا ہے کہ اگر مجھے دُکھ میں بھی تو اس لیے ہیں کہ میں آئیندہ ترقی کروں در اصل مصیبت اور تکلیف وہی بلاک کرنے والی ہوتی ہے۔جس کا انجام اور نتیجہ اچھا نہ ہو۔لیکن جس دکھ اور تکلیف کا نتیجہ اچھا ہو۔اس کو لوگ خوشی سے برداشت کرتے ہیں۔دیکھو زمیندار جیٹھ ہاڑ کے تپتے ہوئے دنوں میں محنت کرتا ہے۔دکھ اُٹھاتا ہے مگر وہ خوش ہوتا ہے کہ نتیجہ اچھا ہو گا۔ایک طالب علم راتوں کو جاگتا ہے وہ اس کو مصیبت نہیں خیال کرتا۔کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کے نتیجہ میں میرے لیے بہت ترقیات میں نہیں دُکھ وہی دُکھ ہوتا ہے جس کا نتیجہ دکھ ہو۔اور وہ دیکھ رکھ نہیں ہوتا جس کا نتیجہ آرام ہے۔تو مومن کو جو ابتلا۔آتے ہیں۔وہ اسی لیے آتے ہیں کہ وہ اور ترقی کرے اس لیے وہ ان کو تکلیف نہیں خیال کر سکتا۔پس دُنیا میں بے امنی ہے۔مگر ان کے لیے نہیں۔جن کو اللہ سے محبت ہے۔اور جنھوں نے اللہ کے رسولوں کو قبول کیا ہے۔ایسی حالت میں ہمارے بھائیوں کا فرض ہے کہ وہ لوگوں کو نجات دلانے کے لیے اور ان کے دلوں میں امن پیدا کرنے کے لیے جد وجہد کریں۔جب ظاہری دکھ اور تکلیف سے نجات دلانا ثواب ہے۔تو دل کا امن و اطمینان دلانا کتنا ثواب ہو گا۔پس میں اپنے بھائیوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ میں نے اس سفر سے جو سب سے بڑا تجربہ حاصل کیا ہے۔وہ یہی ہے کہ لوگ امن واطمینان کے بھوکے ہیں۔اور ہمارے پاس ان واطمینان ہے۔اس لیے ہمارا فرض ہے کہ وہ سامان اطمینان لوگوں تک پہنچا دی قبول کرنانہ کرنا انکے اختیاریں ہے ہم اگر پہنچا دینگے۔توہم خدا تعالیٰ کے حضور کہ سکیں گے کہ خدایا ہم نے تیرے ندوں کو تراپیغام پہنچایا اور ہم کے ذمہ دارتھے ہم نے تیرا پیغام پہنچانے میں بخل سے کام نہیں لیا ہم نے گھر کے دروازے کھلے رکھے۔مگر لوگوں نے اس طرف پیٹھ پھیر لی۔اگر پناہ نہ لی تو انہوں نے اگر توجہ نہ کی توانہوں نے ہم نے بخل نہیں کیا۔ہم شکست نہیں ہوتے۔ہم تھکے نہیں۔بلانا ہمارا فرض تھا۔سو ہم نے ادا کیا۔پیس ہمیں چاہیئے کہ ہم اپنے اوپر بخل اور کوتاہی کا الزام نہ آنے دیں۔اور اگر وہ نہیں مانیں گے۔تو اس کا اگر ہم خدا کا پیغام پہنچانے میں ستی کریں، تو اس کی دو ہی وجہیں ہوں گی۔یا تو یہ کہ ہم نے خود قدر نہ کی۔یا ہم اس کو انعام نہیں سمجھے نہیں اس ذمہ داری سے بچنے کے لیے کوشش وسعی سے سلسلہ حقہ کو لوگوں تک پہنچانا چاہیئے۔اب چونکہ میرے حلق میں تکلیف بڑھ گئی ہے۔اس لیے میں زیادہ نہیں بول سکتا۔غیروں کے