خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 256 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 256

۲۵۶ وقت اگر اسے جسمانی طاقت کی ضرورت ہو تو وہ دیدیا ہے۔اگر حافظہ کمزور ہو تو اسے قوی کر دیا جاتا ہے۔اسی طرح اور حبس بات میں کمی یا نقص ہو۔اس کو پوری طاقت اور قوت دیدیا ہے، لیکن یہ سب کچھ خدا تعالیٰ کی رحمت پر امید رکھنے سے ہوتا ہے۔کیونکہ اسی کے نتیجہ میں اس قسم کے سامان پیدا ہوتے ہیں۔اور اسی کا دوسرا نام مسمریزم اور توجہ رکھا گیا ہے جن مریضوں کا یہ خیال ہو کہ ہم تندرست نہیں ہو سکتے اور وہ اپنی صحت سے مایوس ہو جاتے ہیں۔ان کو صحت نصیب نہیں ہوتی۔اسی طرح جو خدا تعالیٰ سے نا امید ہو جاتے ہیں۔وہ اپنے کسی مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ہاں جب انسان خدا پر بھروسہ کرتا ہے۔تو خدا تعالیٰ زمین و آسمان کو اس کی تائید کے لیے کھڑا کر دیتا ہے۔دنیا میں جتنی و باتیں پڑتی ہیں۔ان کی ایک وجہ مایوسی ہوتی ہے۔چنانچہ انہی دنوں ایک عام بخار تھا جس کو قحط کا بخار کہا جاتا ہے۔اس میں جولوگ زیادہ مرے ہیں۔یہ نہیں کہ ان کو روٹی نہیں ملتی تھی۔بلکہ بنا۔یہ تھی کہ آیندہ کے متعلق ان کو قحط کو دیکھ کر جو مایوسی اور نا میری ہوگئی تھی۔اس نے ان کے جسم کو مرض کے قبول کرنے کے قابل بنا دیا تھا۔ورنہ ان میں سے اکثر ایسے لوگ بھی تھے۔جو آسودہ حال یا کم از کم دونوں وقت پیٹ بھر کے کھانا کھانے کی مقدرت رکھتے تھے۔اسی طرح اور سینکڑوں بیماریاں ہیں جن کا باعث مایوسی ہوتی ہے۔لوگ خیال کرتے ہیں کہ اب ہم کیا کرینگے۔اب کیا ہوگا۔بھوک سے مر جائیں گے۔حالانکہ جس وقت وہ خیال کر رہے ہوتے ہیں۔اس وقت ان کے پاس کھانے کو موجود ہوتا ہے۔پچھلے دنوں جب انفلوائنز پھیلا۔تو اس میں زیادہ مسلمان مرے۔اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ سلمان چونکہ زیادہ غریب ہیں۔اسواسطے انہیں اپنی آئیندہ حالت کے متعلق زیادہ مایوسی لاحتی ہوئی۔اور ان کے جسموں نے اس مرض کو زیادہ فقمول کیا اور وہ ہندوؤں کے مقابلہ میں زیادہ مرے۔پھر اس سے یورپین لوگ زیادہ مرے جس کی وجہ یہ تھی کہ یورپ میں چار سال جنگ رہی۔اس سے ہر ایک سلطنت کو یہی خیال تھا کہ ہماری حکومت گئی۔اس لیے وہاں کے لوگوں کو جنگ کے صدمات نے بیماری قبول کرنے کے لیے تیار کر دیا تھا۔پس تحط اس کا باعث نہیں ہوا۔بلکہ وہ مایوسی اس کا باعث ہوئی۔جو قحط کے خیال سے پیدا ہو گئی۔کیونکہ قحط نے ان سب لوگوں کی جو اس سے مرے۔یہاں تک حالت نازک نہیں کر دی تھی کہ وہ ٹھوکوں مرگئے ہوں۔اگر اس طرح مرے ہیں۔تو بہت تھوڑے۔مگر ایک مومن کی یہ شان نہیں ہے کہ اس قسم کی مایوسیوں کا شکار ہو۔وہ ہروقت اور ہر حالت میں خدا سے امید رکھتا ہے پس مومن کبھی مایوس نہیں ہوتا۔کیونکہ مایوس کا فر ہوتا ہے۔اور نہ مومن کو محض امید ہی اُمید ہوتی ہے۔بلکہ مومن میں یہ دونوں باتیں جمع ہوتی ہیں۔حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے اور حضرت مسیح موعود بھی فرماتے تھے بلکہ سب کے سرار