خطبات محمود (جلد 6) — Page 212
۲۱۲ 41 مسیح موعود کی صداق کے نشانات کا ظہور ا فرموده ۱۶ مئی ۱۹۱۹ حضور نے تشہیر و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- " خدا تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ کبھی اپنے فضلوں کو واپس نہیں لیتا۔جب تک کہ خود لوگ اس کا مقابلہ کر کے اس کے غضب کا اپنے آپ کو مستحق نہ ٹھہرا لیں۔پہلے لوگ اپنے نفوس میں تبدیلی پیدا کرتے ہیں۔پھر خدا تعالیٰ ان کی نعمتوں کو زائل کر دیتا ہے۔جیسا کہ فرمایا :- اِنَّ اللهَ لا يُغَيرُ مَا بِقَومٍ حَتَّى يُخَيَّرُوا مَا يَا نُفُسِهِمُ (الرعد : ١٣ ) اللہ تعالیٰ اس وقت تک اپنی نعمت کو نہیں بدلتا جب تک کہ لوگ اپنے نفوس کے اندر سے جو اخلاص کی روح اطاعت کا مادہ جوش و وابستگی کا ولولہ ہوتا ہے۔اس کو نہیں بدلتے۔ہاں جب نفسانی خواہشات کے پیچھے پڑ کر اپنی حالت کو بدل دیتے ہیں۔اور خدا کا مقابلہ کرنا شروع کر دیتے ہیں، تواللہ تعالی بھی ان کی حالت کو بدل دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہے وفا نہیں۔بلکہ وفا کا خالق ہے۔اس سے سمجھ لو جو وفا کا خالق ہو گا۔اس میں کتنی وفا ہوگی۔پس وہ قطع تعلق نہیں کرتا جب تک خود لوگ اس سے محبت نہیں چھوڑ دیتے۔وہ فضل کرتا ہے۔جب تک کہ لوگ اس کے فضل کو رد نہ کریں۔وہ دینے سے سیر نہیں ہوتا ، ہاں لوگ لینے سے سیر ہو جاتے ہیں۔حالانکہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے سیری ناممکن ہے۔کیونکہ اللہ کی طرف سے جو کچھ آتا ہے اس کا انسان ہر وقت محتاج ہے۔پس جب انسان خدا کے فضل سے ملال ظاہر کرتا ہے اور خُدا کے احسان سے منہ پھیر لیتا ہے اور خدا کے انعام سے جُدائی میں ارام دیکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی علیحدگی اختیار کر لیتا ہے۔اسی کی طرف سورۃ فاتح میں اشارہ کیا گیا ہے۔فرمایا :- اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالین کہ خدا یا انعام کر مگر یہ نہ ہو کہ ہم تیرے انعام سے