خطبات محمود (جلد 6) — Page 21
5 صحیح طریق سے کوشش کرنے پر کامیابی حاصل ہوتی ہے ) فرموده یکم فروری ششاه ) حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت فرمائی :- " وَلَا يَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمُ وَالسَّعَةِ انْ يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَى وَالْمَكِينَ وَالمُهَاجِرِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلِيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللهُ لَكُمُ وَاللهُ غَفُورٌ رَحِيمُه ( النور : ٢٣) اور فرمایا :۔میں آج بوجہ بیماری اور علالت کے کچھ زیادہ نہیں بیان کرسکوں گا مگر مختصر الفاظ میں ایک نہایت اہم اور ضروری امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔دنیا میں اکثر ناکامیاں اور بہت سی نامرادیاں اس وجہ سے نہیں ہوتیں کہ لوگ اپنے مقصد اور مدعا کے حاصل کرنے کی کوشش اور سعی نہیں کرتے۔بلکہ اس لیے ہوتی ہیں کہ اکثر لوگ ان طریقوں اور سامانوں سے اقف نہیں ہوتے جن کے ذریعہ اس کام میں کہ جس کے پیچھے وہ لگتے ہیں کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔پس چونکہ وہ ان قواعد سے واقف نہیں ہوتے جن کے نتیجہ میں کامیابی ہوتی ہے اور ان سامانوں سے آگاہ نہیں ہوتے جن کے دیا کرنے کے بعد مراد کا منہ دیکھنا نصیب ہوتا ہے۔اس لیے انکی کوشش اور سعی بے سود رہتی ہے اور کیونکہ جب تک انسان ان ذرائع کو استعمال نہ کرے جو کامیابی کے لیے مقرر ہیں۔اس وقت تک وہ خوا کہتی ہی کوشش کرے۔مراد حاصل نہیں کر سکتا۔مثلاً ایک شخص پیاسا ہے اور اسے پانی کی ضرورت ہے۔اب یہ نہیں ہوگا کہ ایک خاص حد تک کوشش کرنے سے اسے پانی مل جائے گا۔گو پانی اس کے پاس ہی موجود ہو اور اس تک اس کا ہاتھ بھی پہنچ سکتا ہو، لیکن اگر وہ اس طریق سے پانی کے حاصل کرنے کی کوشش نہ کرے گا۔جس سے وہ حاصل ہو سکتا ہے تو خواہ اس کوشش سے ہزار درجہ بھی زیادہ محنت اور مشقت اپنے اوپر ڈال سے پانی حاصل