خطبات محمود (جلد 6) — Page 62
여부 کا ہاتھ ان کے ساتھ نہ ہوتا تو چاہیئے تھاکہ اپنی زندگی میں پورے کامیاب ہوتے لیکن ان کے بعد ان کی جماعت کا کامیاب ہونا ظاہر کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ ہی کے فضل اور تائید سے ان کو کامیابی ہوتی ہے۔کسی کی ہوشیاری اور چالاکی کا اس میں کوئی دخل نہیں ہوتا۔پس وہ تمام وعدے جو کسی نبی سے کئے جاتے ہیں۔وہ سارے کے سارے اسکے ہاتھ پر اور اس کی زندگی میں پورے نہیں کئے جاتے بلکہ وہ تمام ترقیات جو موعود ہوتی ہیں۔انبیاء کی وفات کے بعد ظہور میں آتی ہیں۔رسول کا وجود بہت بڑی برکتوں اور انعاموں کا موجب ہوتا ہے، اور اس کی وفات کے بعد بہت سی کہیاں پیدا ہو جاتی ہیں مثلاً خدا تعالیٰ کی وحی جو کہ نبی کے وقت میں بارش کی طرح ہوتی ہے۔بند ہو جاتی ہے، مگر خدا کے قہری نشان جن کا خدا نے اپنے نبی سے وعدہ کیا ہوتا ہے بہت وسیع پیمانہ پر بعد میں ہی ظہور پذیر ہوتے ہیں۔جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اگرصرف قمری نشانات نے ملک عرب میں ظہور کیا۔تو حضور کی وفات کے بعد نشانات قریباً تمام دنیا میں وسیع ہو گئے اور خدا نے ان ممالک کو جن میں بہت مضبوط لاکھوں کی تعداد میں فوجیں تھیں۔تہ و بالا کر ڈالا۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ خُدائی سلسلوں کی ترقی کا تعلق آدمیوں سے نہیں پیس کسی شخص کا بیمار ہونا یا مرنا یا تنزل وترقی کسی خدائی سلسلہ کو درہم برہم نہیں کر سکتا۔اس کے متعلق جو کچھ ہوتا ہے وہ خدا کی طرف یسے ہوتا ہے اور چونکہ خدا میں کوئی تغیر نہیں آسکتا۔اس لیے خدا کے قائم کردہ سلسلہ میں بھی کوئی نقص نہیں آسکتا۔اس وقت جو ضروری بات میں آپ لوگوں کو کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ جیسا کہ میں نے ابھی بیان کیا نبیوں کے وقت میں خدا اپنی قدرت نمائی کیا کرتا ہے۔جیسا کہ حضرت مرزا صاحب کے وقت اس نے کی۔کہ دشمنوں تک نے اقرار کیا کہ یہ ہر میدان میں بڑھ رہے ہیں، لیکن یہ ترقی موعود ترقیوں کیلئے پیش خیمید کے طور پر ہوتی ہے۔نبی کے وقت کی ترقی وہ ترقی نہیں ہوتی جو اس کے اتباع کے لیے مقدر کی ہوتی ہے بکہ وہ ایک پیج کی طرح ہوتی ہے۔اگر دیکھا جائے تو ایک نیج کو حجم اور سائز کے لحاظ سے بڑ کے درخت سے کیا نسبت ہے ؟ لیکن کیا اس سے انکار ہو سکتا ہے کہ وہ درخت اس چھوٹے بیج سے ہی پیدا ہوتا ہے۔لیکن ہر ایک ترقی کے ساتھ مخالفت کا ہونالازمی ہے کیونکہ میں طرح کسی کا حسن معلوم نہیں ہو سکتا جب تک کوئی بد صورت چیز موجود نہ ہو۔اسی طرح جب تک مخالفت نہ ہو فتح عظیم نہیں ہوتی ہمیشہ فتح وہی عظیم کھلاتی ہے جس میں مقابلہ بھی بہت ہی عظیم طاقت سے ہو۔اور بہادری اسی کی ظاہر ہوتی ہے۔