خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 519 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 519

97 ایمان و اسلام کی حقیقت ابتلاء کیا ھے د فرموده ۲۲ اکتوبر شانه ) حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- " میں اس جمعہ اس مضمون کے متعلق نافہ کرتا ہوں جو میں مسلسل بیان کر رہا ہوں کیونکہ اور نہایت ضروری مضمون پیش آگیا ہے جس کی طرف جماعت کی توجہ پھیر تا ہوں۔بیمضمون تو اس قابل ہے کہ اس کو وسعت سے بیان کیا جائے۔مگر دیر ہو جانے اور حلق میں تکلیف ہونے کے باعث زیادہ نہ بول سکوں گا۔مگر میں امید رکھتا ہوں کہ جس قدر بھی اس وقت بیان ہوگا۔آپ لوگ اس کو سمجھنے الوں کو کام کرتا ہوں اور یہ اس وقت بیان ہو لوگ اس اور اس پرعمل کرنے کی کوشش کرینگے۔میں دیکھتا ہوں کہ بالعموم لوگ الفاظ پر کفایت کرلیتے ہیں اور معنے جو لفظوں کے نیچے ہوتے ہیں ان میں جانے کی کم کوشش کرتے ہیں۔بیسیوں لفظ ہیں جو لوگ سنتے ہیں۔بولتے ہیں لکھتے ہیں، مگر ان کی حقیقت کی طرف کم توجہ کرتے ہیں۔بلکہ جتنا کسی لفظ کو زیادہ بولتے ہیں۔اتنا ہی اس کی حقیقت پر کم توجہ کرتے ہیں اور اس سے کم واقف ہوتے ہیں۔انہی الفاظ میں سے ایمان اور اسلام" کے الفاظ بھی ہیں۔جن کے معنوں سے کم لوگ واف ہیں۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بچپن سے سنتے سنتے اس قدر یہ الفاظ عام ہو گئے کہ ان کے معنوں کی طرف کبھی توجہ پیدا ہی نہیں ہوتی جس طرح ایک شخص ایسے جنگل سے آتے۔جہاں اس نے کبھی اسلام و ایمان کے الفاظ نہ کئے ہوں۔وہ جب سُنے گا۔تو اس کے لیے یہ لفظ ایسے لیے اثر نہ ہونگے جیسے اس شخص کے لیے ہیں جو بچپن سے ان کو سنتا رہا ہے۔جنگل سے آنے والے شخص کی عجیب کیفیت ہوگی اگر ہم اس کو کہیں گے کہ تم ایمان لے آؤ اور مسلمان ہو جاؤ۔تو وہ ہم سے پوچھے گا کہ ایمان کیا ہے۔