خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 501 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 501

94 نیست السلام ٠١٩٢٠ فرموده یکم اکتوبر نامه) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا :- قریباً دو اڑھائی سال کا عرصہ ہوا کہ یں نے مجمعوں کے خطبوں میں ایک سلسلہ مضامین بیان کر نانوح کیا تھا۔ان مضامین کا مقصد یہ تھا کہ ایمان کی عمارت کی تکمیل کیونکر ہوسکتی ہے۔اور یہ کہ بغیر میں الیان کے اعلیٰ درجہ کے نتائج کی امید ایک جھوٹی اور عبث بات ہے۔مکان کی ایک دیوار نہ ہو اور انسان سمجھے آندھی کی گرد اور بارش کے پانی سے محفوظ رہے تو نادانی ہے۔یا مکان کی چھت نہ ہو۔اور خیال کرے کہ دھوپ اور شبنم سے بچا رہے۔تو بے وقوفی ہے۔یا مکان میں پانی کے نکاس کا رستہ نہ ہو اور یہ کہے کہ مکان گرے نہ تو کم عقلی ہے۔یا مکان میں ہوا کے آنے جانے کے منفذ نہ رکھے اور سمجھے کہ صحت درست اور اچھی رہے گی۔تو جہالت ہے۔بارش وغیرہ سے محفوظ رہنے کے لیے بھت اور دیواریں پانی کے نکلنے کے لیے رستہ ہوا کے لیے کھڑکیاں۔اور روشنی کے لیے روشندان بھی ہوں۔پھر دروازے بھی ہوں۔دروازوں کی زنجیریں بھی ہوں، تب جا کر مکان مکمل ہو سکتا ہے اگر کوئی شخص ایک چیز پر تو سارا زور خرچ کر دے اور باقیوں کو چھوڑ دے تو مکان مکمل نہیں کھا سکتا میں دیواریں اٹھاتا چلا جائے آسمان تک اور چھت نہ ڈالے۔یا دیواریں بن کر او پر چھت بھی ڈالر ہے، مگر پانی کے نکاس کا انتظام نہ کرے یا نہایت اعلیٰ درجہ کی سفید اور مصفی عمارت بناتے مگر ہوا کے منفذ نہ رکھے تو مکان مکمل اور مفید نہیں ہو گا اور کوئی یہ نہیں کہے گا کہ چونکہ بہت روپے خرچ کئے۔اور بڑی محنت کی گئی ہے۔اس لیے یہ مکان بہت اعلیٰ درجہ کا ہے۔بلہ نہیں کہیں گے کہ مکان کو نا مکمل چھوڑ دیا گیا ہے۔تمام قانون قدرت اسی بات پر شاہد ہے کہ بے ہودہ اور فضول محنت و مشقت کا بدلہ نہیں ملا کرتا بر خلاف اس کے تھوڑی مگر صیح محنت کا بدلہ مل جاتا ہے اگر کوئی شخص سالما سال محنت