خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 479 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 479

89 مایوسی کے بدنتائج تعلق باللہ کے ابتدائی مدارج (فرموده و ر جولائی ۱۲ته ) تشهد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا :- ( میں نے پچھلے جمعہ میں بتایا تھا کہ مایوسی سے انسان کو بہت نقصان پہنچتا ہے اور مایوسی ایک خطرناک چیز ہے۔اس کے بڑے نتائج میں سے ایک یہ ہے کہ اس سے شک اور درہم پیدا ہوتا ہے۔آج بھی میں مضمون کے متعلق بیان کرنے لگا ہوں۔وہ بھی مایوسی سے تعلق رکھتا ہے۔وہ کیا ہے۔وہ ترک عمل ہے۔کام چھوڑنا۔ہمت ہارنا مایوسی سے ہی ہوتا ہے۔کئی کمزوریاں اور کمیاں ہوتی ہیں۔دینی۔دنیوی اخلاقی روحانی۔مگر ان کا اکثر باعث اور خطرناک نتیجہ پیدا کرنے والی نا امیدی اور مایوسی ہوتی ہے۔جب انسان نا امید ہو جاتا ہے۔تو وہ سوال کرتا ہے کہ جب اس کے کامیاب ہونے کی صورت ہی نہیں۔تو پھر اسے کام جاری رکھنے کی کیا ضرورت ہے۔ایسے وقت میں اس کا دل صاف طور پر جواب دیدیا ہے کہ جب میرے لیے امید ہی نہیں تو پھر کام جاری رکھنا لاحاصل ہے۔اگر کامیابی کا شائبہ بھی ہوتا ہے تو ایک انسان کام کرنا ترک نہیں کرتا۔کوئی نہیں۔جو یہ کوشش کرے کہ خدا بن جاؤں یا ملک بن جاؤں۔بائیں آسما پر اسی زندگی میں چڑھ جاؤں ، کیونکہ انسان سمجھتا ہے کہ یہ ہو ہی نہیں سکتا۔اس لیے وہ اس کے متعلق کوشش بھی نہیں کرتا۔مایوسی اسی کا نام ہے کہ انسان سمجھ لے کہ فلاں کام ہو ہی نہیں سکتا۔مایوسی اور کسی کام کو اسکن سمجھے میں کچھ فرق ہے۔مایوی اس امر کے متعلق کہتے ہیں جو اک شخص کو اپنی ذات کے متعلق ہو۔ایک شخص جانتا ہے اور دیکھتا ہے کہ فتح دنیا میں لوگ حاصل کرتے ہیں۔مگر وہ خیال کرتا ہے کہ باوجودیکہ فتح لوگوں کو حاصل ہوا کرتی ہے۔میرے لیے فتح ناممکن ہے۔یہ خیال اس کا مایوسی ہے، لیکن ایک نامکن سب جہان سے تعلق رکھتا ہے کہ شخص خواہ وہ کوئی ہو۔اس کے متعلق بلا استثنا۔یہ قاعدہ ہو کہ وہ نہیں