خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 475 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 475

۴۷۵ 88 خدا تعالیٰ پرمضبوط ایمان کی ضرور ھے (فرموده ۲ جولائی ۹۲ ته) حضور نے تشہیر و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- و ہم بالعموم نا امیدی اور مایوسی اور حیرت سے پیدا ہوتا ہے۔یا ان تمام چیزوں کا اگر مجموعی ایک نام رکھ دیا جائے تو کہ سکتے ہیں کہ عدم یقین سے پیدا ہوتا ہے۔الیوی عدم یقین کانتیجہ اور نا امیدی بھی عدم یقین کا نتیجہ ہے اگر یہ باتیں نہ ہوں یعنی مایوسی نہ ہو حیرت نہ ہو نا امیدی نہ ہو ، تو و ہم بہت حد تک دنیا سے مٹ جائے۔ہمارے ملک میں اوہام پرستی بہت ہے۔مثلاً کہتے ہیں۔کہ جنوں کا سایہ ہو گیا۔بھوت پریت کا سایہ ہو گیا دیوی دیوتا کا اثر ہوگیا۔اس کی وجہ وہی عدم یقین ہوتا ہے، جو حیرت سے پیدا ہوتا ہے۔کیونکہ جب وہ کسی مریض کو دیکھتے ہیں کہ باوجود علاج کے اس کو صحت نہیں ہوتی۔تو ان کو حیرت ہوتی ہے اور اس حیرت میں دماغ پراگندہ ہو جاتے ہیں۔اور وہ ہر طرف ہاتھ مارنے شروع کرتے ہیں۔اسی حالت میں کسی کو یہ جنوں اور بھوتوں پریتوں کا بھی خیال آجاتا ہے۔اسی طرح و باتیں پڑتی ہیں۔تو لوگ سمجھتے ہیں کسی ستارہ کا نتیجہ ہے۔یا کسی پاگل کو بکواس کرتا دیکھتے ہیں۔تو خیال کرتے ہیں کہ یہ اس کی قوت قدسی کا نتیجہ ہے، یا مثلاً ایک بچہ پیدا ہوتا ہے۔اندھا اور لولا لنگڑا ہوتا ہے۔اور تھوڑے عرصہ کے بعد مر جاتا ہے۔ایک شخص غور کرتا ہے کہ اس بچہ کو کس نے پیدا کیا۔اور اس کے پیدا کرنے کا مقصد کیا تھا۔مگر یہ اس مقصد کو بغیر پورا کئے چلا گیا۔یہ آیا تھا مگر وہ سامان نہ لایا تھا۔جو اس کے لیے اس مقصد کو پورا کرنے میں کام آتے۔وہ غور کرتا ہے مگر سر چشمہ علم حقیقی تک نہیں پہنچتا۔اس لیے وہ حیران ہو جاتا ہے۔اور اس کا واہمہ پرواز شروع کرتا ہے۔وہ خیال کرتا ہے کہ دنیا میں سزا اس وقت ملتی ہے۔جب کوئی جرم کرے چونکہ اس کا اندھا یا لنگڑا یا اور نقص لیے ہوئے پیدا ہونا ایک سزا ہے۔اس لیے ماننا پڑا کہ اس نے کبھی پہلے جرم کئے ہونگے۔جن کی سزا میں اس کو ناقص پیدا کیا گیا ہے۔