خطبات محمود (جلد 6) — Page 476
چونکہ اس غور کرنے والے کو حقیقی وجہ نہ معلوم ہوئی۔اس لیے وہ حیرت کے باعث اس وہم میں مبتلا ہو گیا کہ یہ مزا ہے۔جو کسی پہلی پیدائش کے جرم کے بدلے ملی ہے۔اسی طرح جب کوئی بیمار ہوتا ہے اور اس کا علاج کیا جاتا ہے، مگر اس کو صحت نہیں ہوتی تو اچھے اچھے مضبوط لوگوں کو دیکھا ہے کہ اوہام کے باعث جھاڑ پھونک کی طرف دوڑتے ہیں۔اور کہتے ہیں چلو اسکو بھی آزما دکھوں تو باوجود قتل کے لوگ وہم میں مبتلا ہو کر جھاڑوں۔ٹونوں اور ٹوٹکوں کی طرف دوڑتے ہیں۔یا مشرکانہ طور پر قبروں پر چڑھاوا چڑھاتے ہیں۔اور پیر فقیر کی منت مانتے ہیں۔یہ تمام خیالات اسی وقت پیدا ہوتے ہیں جب مایوسی پیدا ہوتی ہے کسی مریض کے متعلق جب ڈاکٹر جواب دے دیتا ہے۔تو کہتے ہیں۔چلو اب جھاڑا والوں کا ہی کریں۔شاید اسی سے شفا ہو جاتے۔اس وقت شاید آکو دتا ہے تو مایوسی سے دہم پیدا ہوتا ہے۔عدم یقین سے وہم پیدا ہوتا ہے اور حیرت سے وہم پیدا ہوتا ہے۔ایک مشہور فریبی گزرا ہے۔اس نے اس طرح اپنی اولیائی جاتی تھی کہ کچھ لوگ ایک جہاز میں بیٹھے جا رہے تھے کہ سخت طوفان آیا۔قریب تھا کہ جہاز غرق ہو جائے۔اس موقع پر اس نے یہ خیال کر کے کہ اگر جہاز غرق ہو گیا۔تو ہم سب ڈوب جائیں گے۔نہیں ہونگانہ مجھ سے پوچھنے والا کوئی ہوگا لیکن اگر جہاز نہ ڈوبا تو میری کرامت چل جائے گی۔کہا کہ مجھے پتہ لگا ہے کہ جہاز غرق نہ ہو گا۔خدا کی قدرت جہاز غرق نہ ہوا اور نادانوں نے خیال کر لیا کہ یہ ولی ہے۔اور اس کے پیچھے لگ گئے۔یہ ان شخصوں میں نے ایک ہے جس نے اپنی شرارت سے دنیا میں گندے عقاید پھیلاتے ہیں۔پھر عورتیں بہت جلد وہم میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔ذرا بچہ بیمار ہوا اور وہ قبروں پر دوڑی گئیں۔یا کسی مسجد کے محراب میں دیا جلا دیا یا کسی دیوی دیوتا کی نذر مان لی یا تیل ماش بانٹ دیا۔وہ قوم جس کو تمام دنیا ذلیل سمجھتی ہے اور جن کے مذہب کو جھوٹا مانا جاتا ہے۔باوجود اس کے اس مذہب کی ایک نمایاں خصوصیت یہ مانی جاتی ہے۔کہ اس میں ایک خدا کو منوایا جاتا ہے۔اور جس کی بڑی خصوصیت یہ بتائی گئی ہے کہ وہ خدا کو ماننے والی اور خدا پر بھروسہ کرنے والی قوم ہے۔حیرت ہے کہ وہ بھی مایوس ہوتی ہے۔تو وہموں کی طرف دوڑتی ہے اور ٹونے ٹوٹکے پر عمل کرتی ہے۔وہ کتاب ہو خدا کی طرف سے آئی اور مسلمانوں نے اس کو جانا۔اس میں خدا کی ذات اور صفات کے متعلق بہت کچھ بیان کیا گیا ہے، لیکن اس کتاب کو چھوڑ کر اور ایسے خدا کو چھوڑ کر جس کی قدرت اور قات کے انھوں نے بیشمار نمونے دیکھے۔وہم کے پیچھے پڑے ہوتے ہیں جس سے ظاہر ہے کہ اگر ان کو خدا پر اتنا بھی ایمان ہوتا جتنا اوہام پر ہے۔تو یقیناً تب بھی وہ کامیاب ہو جاتے۔وہ شاید کہتے ہوئے