خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 444 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 444

82 وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا ر فرموده ۱۴ رمئی ۹۲له ) تشهد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا۔میں نے پچھلے جمعہ بیان کیا تھا کہ کس طرح دنیا کے حالات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اتفاق کا ذریعہ ایک ہی ہے جب لوگ ایک چیز پر جمع ہوتے ہیں۔توان لوگوں کی نسبت جو کسی چیز پر جمع نہیں ہوتے ان میں زیادہ اتفاق و اتحاد ہوتا ہے۔اور یہ بھی ثابت ہے کہ جتنا تعلق زیادہ قریب کا ہو۔اتناہی زیادہ اپس میں محبت اور تعلق ہوتا ہے۔مثلاً ایک باپ کی اولاد میں زیادہ محبت ہوگی۔بہ نسبت ایک دادا کی اولاد ہونے کے۔اور ایک دادا کی اولاد میں زیادہ محبت ہوگی یہ نسبت ایک پر دادا کی اولاد کے۔اور پھر اسی طرح دی تعلق وسیع اور کم موثر ہوتا جائے گا۔میں نے بتایا تھا کہ قرآن کریم نے اس نکتہ کو پیش کیا ہے۔اور بجائے اتحاد و اتفاق کا حکم دینے کے یہ کہا ہے کہ وَ اعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا دال عمران : ۱۴) کہ تم سب ایک چیز سے تعلق پیدا کرو۔اور اس حکم میں قیام اتفاق و اتحاد کا طریق بھی بتا دیا۔دوسرے مذاہب کی طرح محض اتفاق کا کلم نہیں دیا۔بلکہ ساتھ طور و طریق بھی بتا دیا۔آج میں یہ بتانا چاہتا ہوں۔کہ یہ اصل جو ایک چیز پر جمع ہوں۔ان میں زیادہ محبت و تعلق ہوتا ہے یہ کیا ہے۔قرآن کریم نے نہیں جیں رسہ کے پکڑنے کا حکم دیا ہے۔وہ ایسا رسہ نہیں۔جیسے سوت وغیرہ کے رسے ہوتے ہیں۔اس میں ہمیں سوت اور سن کے رسہ کی طرف متوجہ نہیں کیا گیا۔بلکہ میں ایسے رہتے کے پکڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔جو اپنے اندر ہزاروں تعلیمیں رکھتا ہے جب ایک خاندان کے لوگوں کو کہیں کہ وہ رستہ پکڑیں۔تو مجموعی حالت میں اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ اس ایک رسہ کو جو مختلف ذرات سے بنا ہوا ہے۔پکڑ لو ، لیکن ایک ایسی چیز کے پکڑنے کا حکم جو نہ صرف ایک چیز ہو بلکہ اپنے اندر ایسی بہت سی