خطبات محمود (جلد 6) — Page 418
کہ وہ پوچھیں گے تمہیں تم کو چھوڑ ک کیا لا۔اور تم میں کوئی نئی بات پیدا ہوگئی۔اس وجہ سے ان میں نیا جوش اور نئی روح پیدا ہوتی ہے کہ کچھ کر کے دکھائیں۔بظاہر انہیں کوئی مجبور نہیں کرتا۔مگر اصل میں ان کے لیے ایک مجبوری موجود ہوتی ہے۔اور وہ وہی طعنہ کا ڈر کہ لوگ کہیں گے ہمیں چھوڑ کر تم نے کیا کیا۔پس کسی نے فرقے کے لوگ اگر چندہ زیادہ دیتے ہیں۔اگر اپنے اخلاق اچھے بناتے ہیں۔اگر سختی کے مقابلہ میں نرمی دکھلاتے ہیں تو یہ سب کچھ ان کا مجبوری کے ماتحت ہوتا ہے۔مثلاً ہمارے ملک میں آمرید ہیں۔ان کے جوش میں پرانے زمانہ کے ہندوؤں کے جوش سے کتنا فرق ہے۔سنا تینوں اور آریوں کی قربانی کو اگر دیکھا جائے تو باوجود اس کے کہ سناتنی بہت زیادہ اور آریہ بہت تھوڑے ہیں۔چند لاکھ سے زیادہ نہیں، لیکن ان میں بہت بڑا فرق پایا جاتا ہے۔آریوں کے کالج پنجاب میں ہیں اور بیسیوں سکول جاری ہیں۔وہ لاکھوں روپیہ سالانہ خرچ کرتے ہیں۔ان کے اخباروں کی جتنی اشاعت ہے اور اخباروں کی اتنی نہیں ہے۔ان میں اس قدر جوش کیوں ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ اسی قاعدہ کے ماتحت کہ جب کوئی نئی جماعت قائم ہوتی ہے۔تو وہ کہتی ہے۔اگر کچھ نہ کیا تو لوگ کہیں گے۔اس نے علیحدہ ہو کر کیا گیا۔تو ی عمل یہ جوش یہ ولولہ حقیقی نہیں ، بناوٹی اور مجبوری کے ماتحت ہوتا ہے۔جو عام طور پر نئی جماعتوں میں پایا جاتا ہے۔پھر بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ جوش و خروش سے کام لینے والا بھی نہیں جانتا کہ اس کا جوش مجبوری کے ماتحت ہے مگر واقعہ یہی ہوتا ہے کہ اس کا جوش بناوٹی اور مجبوری کے ماتحت ہوتا ہے۔اس کا کیا ثبوت ہے یہی کہ جب وہ مجبوری جاتی رہتی ہے۔تو اس کا جوش بھی کافور ہو جاتا ہے جب تک اس کی جماعت تھوڑی اور کمزور ہوتی ہے۔جب تک مخالفین کا اس کو خوف اور ڈر ہوتا ہے۔اس وقت تک وہ اپنے اخلاق اپنے عادات اپنے اعمال بہت اعلیٰ درجہ کے دیکھاتا ہے اس میں نیکی اور تقوی پایا جاتا ہے، لیکن جب وہ اپنی جماعت اور فرقہ کو کچھ سمجھنے لگ جاتا ہے تو یہ سب باتیں چھوڑتا جاتا ہے۔یہ ثبوت ہوتا ہے۔اس بات کا کہ وہ لوگ جو جوش و خروش دیکھا رہے ہوتے ہیں۔اور اچھے کام کر رہے ہوتے ہیں۔وہ چاہتے دل سے یہی خیال کرتے ہوں کہ ہم نیک نیتی سے خدا تعالے کے لیے اس کی محبت کی خاطر کرتے ہیں، لیکن اصل میں وہ خدا تعالے کی محبت کی وجہ سے نہیں کرتے کیونکہ جب دشمن ان کے سامنے سے ہٹ جاتا ہے۔اور خطر ہ ور ہو جاتا ہے۔تو ان کا آپس کا اتحاد - اخلاص نیکی اور جوش کم ہو جاتا ہے۔اگر وہ خدا کے لیے کرتے ہوتے تو خدا تو اس وقت بھی موجود ہوتا ہے۔اس وقت وہ کیوں ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں۔معلوم ہوا