خطبات محمود (جلد 6) — Page 403
75 دنیا کو امن کا پتہ دو د فرموده ۲۷ فروری ۱۹۳) تشد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا :- اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس زمانہ کی حالت اور اس وقت کے لوگوں کے خیالات کو دیکھ کر ایک ایسا سامان پیدا کیا گیا۔اور ایک ایسا دروازہ کھولا گیا ہے جس میں سے ہو کر انسان حقیقی آرام اور اطمینان حاصل کر سکتا ہے۔اس راستہ کے بغیر کوئی رستہ نہیں جس طرف دیکھو امن و اطمینان نہیں ہے۔اکثر لوگوں نے غلطی سے خیال کر لیا ہے کہ امن دولت سے حاصل ہوتا ہے۔یا بادشاہت اور حکومت سے مگر حقیقت یہ ہے کہ امن دولت سے میسر نہیں ہوتا۔اور نہ امن و اطمینان دنیا کی عزتوں اور وجاہتوں اور حشمتوں سے حاصل ہوتا ہے۔امن اسی کو حاصل ہے جس کے دل میں اطمینان۔اور جس کے دل میں اطمینان نہیں۔وہ خواہ بڑے سے بڑا دولت مند یا بادشاہ یا حاکم ہے۔اس کو کوئی اطمینان حاصل نہیں ہو سکتا۔بڑے بڑے لوگ ہیں۔مگر جب ان کے اندرونے کو ٹٹولا ہوسکتا، انکے اندرونے کو ہے جاتا ہے تو ان میں امن نظر نہیں آتا۔میں نے اپنے پچھلے خطبوں میں بیان کیا تھا کہ امن حاصل کرنے کا ایک ہی طریق ہے کہ اس رسہ کو مضبوط پکڑ لیا جائے۔جو خدا تعالیٰ کی طرف سے پھینکا گیا ہے۔اور اس سفر میں مجھ پر ثابت ہو گیا ہے کہ امن حاصل کرنے کے لیے سوائے اس کے اور کوئی طریق نہیں کہ خدا کی رسی کو مضبوط پکڑا جائے۔کیونکہ ہر دل اور ہر ایک قلب جس کو میں نے ٹوٹا۔خواہ وہ کسی درجہ اور کی حیثیت کے انسان کا تھا۔اس میں امن نہ تھا۔بلکہ امن کی جستجو میں تھا۔سوائے اس ایک قلب کے جو اطمینان سے بھرا ہوا تھا۔وہ ایک قلب وہی تھا جس میں مسیح موعود پر ایمان داخل تھا۔پس دُنیا کی کوئی تکلیف اس دل کو گھیرا نہیں سکتی جس کو خدا اور اس کے رسولوں پر ایمان حاصل ہو۔کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کے لیے کامیابی کا دروازہ کھلا ہے۔اور وہ دیکھتا ہے کہ مصائب اور تکالیف میں وہ اکیلا نہیں۔