خطبات محمود (جلد 6) — Page 40
نہیں ہے یا کن میں نقص پایا جاتا ہے، لیکن اگر پراگندہ طور سے ان پر نظر کریں تو پھر مشکل پیش آجاتی ہے اور اس کی مثال ایسی ہی ہے کہ یہاں یہ لوگ جو بیٹھے ہیں ان کو اگر کوئی گننے لگے تو اس کے لیے بہت مشکل ہوگا اور بعض کو وہ کئی کئی بار گن جائے گا یا بعض رہ جائیں گے لیکن جب میں آدمی صفیں باندھ کر کے کھڑے ہوتے ہیں اس وقت ایک بچہ بھی آسانی کے ساتھ گن سکتا ہے تو بعض لوگ اعمال کو ترتیب کے ساتھ نہیں دیکھتے اس لیے کئی اعمال ان کی نظر سے رہ جاتے ہیں۔وہ اپنی طرف سے پوری توجہ اور غور سے کام لیتے ہیں مگر ان اعمال کا پتہ نہیں لگا سکتے جن میں نقص ہوتا ہے یا جو زیر عمل ہی نہیں آتے۔لیکن اگر وہ ابواب میں تقسیم کر لیں تو پھر آسانی سے پتہ لگا سکیں کے کرکون سے کام کرنے کے ہیں جنہیں ہم نہیں کرتے یا پوری طرح نہیں کرتے اور کون سے کام نہیں کرنے کے ہیں جنہیں ہم کرتے ہیں۔پسی چونکہ تکمیل ایمان کے لیے اعمال کی تقسیم ضروری ہے۔اس لیے ہر ایک انسان کے لیے نہایت ضروری ہے کہ اعمال کی تقسیم کر کے انہیں دیکھے اس سے اسے کئی اعمال ایسے معلوم ہو جائیں گے کہ یوں کبھی اس کے خیال میں بھی نہ آنے کہ کرنے چاہئیں۔اسی طرح کئی ایسے معلوم ہو جائیں گے جن کا ترک کرناضروری ہے اور یہ پہلا سبق ہے اس کے بغیر تکمیل ایمان مشکل اور بہت مشکل ہے۔اس لیے نہایت ضروری ہے که انسان اعمال کی تقسیم کرے۔انہیں بابوں میں تقسیم کر کے پھر ان کی فصلیں بنائے۔لکھے پڑھے انسان تو تو سمجھتے ہیں کہ باب اور فصلیں کیا ہوتی ہیں، لیکن ان پڑھ زمیندار نہ سمجھتے ہوں گے، اس لیے وہ یوں سمجھے ہیں کہ جس طرح وہ اپنی آسانی کے لیے زمین کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کرتے اور پھران میں پیارے بناتے ہیں۔اسی طرح یہ ہے۔کیاروں کا وہ بآسانی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان میں بو بار ہوا چارہ کتنے دنوں کے لیے کافی ہوگا، لیکن اگر چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم نہ کیا جاوے تو جس طرح ٹھیک اور آسانی کے ساتھ اندازہ نہیں لگ سکتا۔اسی طرح تکمیل ایمان کے لیے ضروری ہے کہ اعمال کی تبویب اور تقسیم کریں حصے بنائیں اور پھر ان کی جو شاخیں ہیں ان پر غور کریں کہ ان میں کون سے کام کہتے ہیں اور کون سے نہیں اور کون سے نہیں کرنے چاہئیں۔اس سے نہایت آسانی کے ساتھ پتہ لگ جائے گا اور میں حصہ میں کمی ہوگی اس کا علم ہو جائے گا دیکھو ایک گاؤں کے آدمی گننے کے لیے اگر کوئی یونی بغیر کسی تقسیم اور ترتیب کے گنا شروع کر دے تو کئی آدمی اس کی گنتی سے رہ جائیں گے اور اس طرح م مشکل بھی پیش آئے گی لیکن اگر پہلے وہ یہ دیکھے کہ کتنے گھر ہیں اور پھر یہ کہ ہر ایک گھر میں کتنے آدمی ہیں تو اس طرح آسانی کے ساتھ سب کو گن لے گا۔یہی حال اعمال کا ہے۔ان کے محاسبہ کے لیے ضروری ہے کہ ابواب میں تقسیم کیا جائے۔اس کے بعد ہر ایک باب میں دیکھا جاتے کہ کتنی باتیں ہیں۔پیس