خطبات محمود (جلد 6) — Page 39
معاملات اور سلوک نہیں کرنے چاہئیں۔اور دوسرے یہ کہ ایک انسان کو خدا کے متعلق کیا کیا بات نہیں کرنی چاہیئے۔پھر ان کی آگے تقسیمیں ہیں۔احکام کی بھی اور نواہی کی بھی۔مثلاً یہ کہ بندہ کو مخلوق سے کیا سلوک کرنے چاہتیں۔اس کی تقسیم یوں ہے کہ ایک تو وہ سلوک ہیں جن میں انسان کو کوئی تکلیف کسی قسم کی نہیں اُٹھانی پڑتی اور اس کے کرنے میں اس کا کوئی حرج اور نقصان نہیں ہوتا لیکن دوسرے کو فائدہ پہنچ جاتا ہے۔دوسرے وہ ہیں کہ جن میں اس کا تو پہلی طرح ہی نہ کچھ خرج ہوتا ہے نہ نقصان، لیکن کسی اور مخلوق کا اس سلوک کے نہ کرنے سے نقصان ہو جاتا ہے تیرے وہ ہیں کہ جن میں اس کا بھی فائدہ ہوتا ہے اور کسی اور مخلوق کا بھی۔اور چوتھے وہ ہیں کہ جین میں اس کا نقصان ہوتا ہے اور دوسرے کا فائدہ۔پہلا تو یہ کہ اس کے کرنے سے انسان کا اپنا کچھ نقصان نہیں ہوتا۔مگر دوسرے کو فائدہ پہنچ جاتا ہے۔دوسرا یہ کہ اس کا تو کوئی نقصان نہیں ہوتا لیکن نہ کرنے سے دوسرے کو نقصان پہنچ جاتا ہے۔تیسرا یہ کہ اس میں اس کا اپنا بھی فائدہ ہوتا ہے اور دوسرے کا بھی۔چوتھے یہ کہ اس کا اپنا نقصان ہوتا ہے مگر دوسرے کو فائدہ پہنچ جاتا ہے۔اور یہ حصہ پہلے تینوں سے زیادہ قابل قدر اور لائق تعریف ہے کیونکہ پہلے درجہ میں اس کا کچھ نقصان نہیں تھا، مگر دوسرے کو فائدہ تھا۔اور دوسرے درجہ میں اس کا کچھ نقصان نہیں تھا، مگر دوسرے کا تھا اور میرے درجہ میں اس کا اپنا بھی فائدہ تھا اور دوسرے کا بھی، لیکن چوتھا درجہ وہ تھا کہ جس میں اس کا نقصان تھا اور دوسرے کا فائدہ۔یہ چار قسم کے اعمال ہوتے ہیں اور انہیں میں سارے اعمال تقسیم ہو جاتے ہیں۔اس طرح نواہی کی تقسیم ہے۔ایک تو اس کام سے روکا جاتا ہے کہ جس کو اگر انسان کرے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا، لیکن کسی اور کو اس سے نقصان پہنچ جاتا ہے۔دوسرے وہ کام کہ نہیں کو اگر کرے تو اس کی ذات کو اس سے نقصان پہنچ جاتا ہے گو کسی اور کو پہنچے یا نہ پہنچے۔تیسرے وہ کام کہ جس کے کرنے سے اس کی ذات کو بھی نقصان پہنچتا ہے اور دوسرے کو بھی اور چوتھے وہ کام کہ جن کے کرنے سے اس کا کوئی فائدہ ہوتا ہے لیکن اس سے دوسرے کا نقصان ہو جاتا ہے۔پس جس طرح اوامر کی قسمیں ہیں نواہی کی بھی کئی قسمیں ہیں۔پھر ایک اور بھی تقسیم ہے اور وہ یہ ہے کہ ایک وہ اعمال جو انسان کے جسم سے تعلق رکھتے ہیں اور ایک وہ جو عقائد اور خیال ہے۔ایک وہ جو رشتہ داروں اور عزیزوں سے تعلق رکھتے ہیں۔اور ایک وہ جو دشمنوں اور مخالفوں سے تعلق رکھتے ہیں ان میں بھی اوامر و نواہی یں جیبیں اس رنگ میں اعمال کو تقسیم کر کے دیکھیں تو آسانی سے معلوم ہو جاتا ہے کہ کون سے اعمال قابل اصلاح ہیں یا کن پر توجہ