خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 391 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 391

پس جس طرح تکمیل خلق کا زمانہ ہے۔اسی طرح تکمیل عقل کا بھی ایک زمانہ ہے جو چالیس سال تک چلتا ہے۔اس میں مکن ہے کہ ایک انسان چالیس سال کی عمر سے پہلے ہی تکمیل عقل حاصل کرے۔کیونکہ تکمیل عقل کا زمانہ میں چھبیس تمہیں سے چلتا ہوا چالیس پر جاکر ختم ہو جاتا ہے لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی ۱۳ یا ۱۴ برس کا بچہ تکمیل عفضل کرے۔ہر ایک تغیر کے لیے ایک نقطہ اور دائرہ ہوتا ہے اور اس نقطہ سے چلکر اس دائرہ کے اندر اندر تکمیل ہو جاتی ہے۔پس جس طرح جسم کی تکمیل عقل کی تکمیل اور دین کی تکمیل کے لیے ایک زمانہ ہوتا ہے۔اسی طرح قوموں کی تکمیل کے لیے بھی ایک زمانہ ہوتا ہے۔نادان اعتراض کرتا ہے کہ فلاں قوم یا فلاں جماعت کا تو یہ حال ہے کہ بہت تھوڑی سی اور کمزور ہے۔وہ دنیا میں کیا ترقی کرے گی۔اور کس طرح دنیا پر غالب آجائیگی ، لیکن اس کی مثال وہی ہے کہ ایک زبر دست پہلوان کی حالت نطفہ کی طرف اشارہ کرکے کوئی کہے۔بھلا یہ ایک قطرہ کیا کر سکے گا۔یا یہ کہے کہ کیا اس قطرہ سے ایسا انسان پیدا ہوسکتا ہے جو خدا سے باتیں کر سکے پس جس طرح نطفہ کو دیکھ کر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس سے پہلوان نہیں پیدا ہوگا۔یا اس سے خدا کا مقرب انسان نہیں پیدا ہوگا۔اسی طرح قوموں کی ابتدائی اور کمزوری کی حالت پر بھی یہ فتویٰ نہیں لگایا جاسکتا کہ وہ دنیا میں کیا تغیر پیدا کر دیگی بلکہ قوموں کی ابتداء میں یہ دیکھنا چاہیئے کہ فلاں قوم میں نشود نما کی قابلیت ہے یا نہیں ؟ مثلاً یہ کہ نطفہ جو بڑھتے بڑھتے ایک ہو تا چلتا انسان بن جاتا ہے۔اور لاکھوں انسانوں پر حکومت کرنے لگتا ہے۔وہ نطفہ سے پیدا ہوتا ہے۔مگر چونکہ نطفے ضائع بھی ہو جاتے ہیں اور ہر نطفہ سے بچہ پیدا نہیں ہوتا۔اس لیے اگر کوئی کہدے کہ نطفہ سے بچہ پیدا نہیں ہوتا۔اس لیے اگر کوئی کہدے کہ نطفہ فضول چیز ہے۔تو یہ اس کا استدلال باطل ہو گا۔کیونکہ بے شک نطفے ضائع ہوتے ہیں۔مگر سب نطفے تو ضائع نہیں ہوتے۔اسی طرح جو اقوام دنیا میں اٹھتی ہیں ان میں سے بہت سی مٹتی ہیں۔مگر بہت سی بڑھتی بھی تو ہیں۔پس دیکھنا یہ چاہیئے کہ آیا اس قوم میں بڑھنے اور ترقی کرنے کی قابلیت ہے یا نہیں ؟ پس جس طرح نطفہ پر اعتراض نہیں ہو سکتا ہی طرح قوم کی ابتدائی حالت پر بھی اعتراض نہیں ہو سکتا۔بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ احمدی جن کی یہ کمزور حالت اور قلیل تعداد ہے یہ دنیا کو تو فتح کیا کرینگے۔انہیں اپنا وجودہی قائم رکھنا مشکل ہے۔مگر ہم اس اعتراض کے جواب میں یہی کہیں گے کہ یہ اعتراض درست نہیں کیونکہ ابتداء میں تمام بڑھنے والی اقوام کمزور ہوا کرتی ہیں۔اسی طرح ہم بھی ہیں۔ہاں ہم سے یہ ثبوت طلب کرو کہ آیا ہم میں ترقی کرنے اور نشو و نما پانے کی قابلیت بھی ہے کہ نہیں۔کیونکہ ہر ایک قوم جو دنیا کی