خطبات محمود (جلد 6) — Page 392
اقوام پر غالب آتی ہے۔وہ ابتداء میں کمزور ہی ہوتی ہے اور جنہوں نے ان پڑھنے والی اقوام کی ابتدائی حالت کی بنا پر فیصلہ کر لیا ہے کہ یہ نہیں بڑھیں گی۔انہوں نے غلطی کی۔کیونکہ کسی چیز کو ابتداء میں حقیر نہیں سمجھنا چاہئے۔بلکہ یہ دیکھنا چاہیئے کہ اس میں ترقی و نشو ونما کی قابلیت موجود ہے یا نہیں۔کوئی مذہب جو ابتدا میں کمزور ہو۔اس کے متعلق یہ فیصلہ کرنا غلط ہے کہ یہ ترقی نہیں کریگا۔کیونکہ اس وقت کمزور ہے بلکہ یہ دیکھنا چاہیئے کہ اس میں ترقی کی قابلیت رکھی گئی ہے یا نہیں۔ہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ میچ ہے کہ قابلیت ہے۔مگر قابلیت ضائع بھی تو ہو جاتی ہے۔جیسے کہ ہر نطفہ بچہ نہیں بن سکتا۔پھر بعض نطفوں میں بچہ بننے کی قابلیت تو ہوتی ہے۔مگر رحم مادر میں نہیں ٹھرتے یا ٹھرتے ہیں۔مگر گر جاتے ہیں یا تکمیل خلق سے پہلے پیدا ہو کر مر جاتے ہیں یا پیدا ہوتے ہیں مگر مجنون و کمزور۔اس کا جواب یہ ہے کہ اگر الیا ہو۔تو اعتراض ہو گا۔مگر قبل از وقت اعتراض نہیں ہو سکتا۔اسی طرح اقوام کے متعلق بھی ہوتا ہے کہ ان پر اعتراض محض ان کی کمزوری کی وجہ سے نہیں ہو سکتا۔بلکہ دیکھنا یہ چاہیئے کہ یہ قوم کسی طریق پر اکٹھی ہے۔اور کن سامانوں سے اٹھی ہے۔آیا وہ سامان بڑھنے والی قوموں کے مانند یں یا نہیں تمام بڑھنے والی قوموں کی یہی مثال ہوتی ہے۔جو بچے کی ہوتی ہے۔بچے کی تکمیل کے لیے چالیس سال ہیں۔اسی طرح قوم کی تکمیل کے لیے ایک وقت مقرر ہوتا ہے۔اگر اس عرصہ میں قوم کی ترقی نہ ہو تو مجھو کہ پیشگوئی جھوٹی ہوئی پس ہم میں بڑھنے کی قابلیت ودیعت کی گئی ہے۔اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اس لیے دشمن کا اعتراض باطل ہے کہ ہم اب تک بڑھ کیوں نہیں گئے۔اور سب دنیا پر غالب کیوں نہیں آگئے۔اگر ہماری حالت کو دیکھا جائے۔تو ہمیں وہ تمام قابلیتیں ہیں جن کا ہونا بڑھنے والی قوموں کے لیے ضروری ہے۔اگر اس قانون کے ماتحت دیکھا جائے۔تو آج تک جن قوموں نے دنیا میں ترقی کی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم کی قوم کو چھوڑ کر بات کسی نبی کی قوم کو اتنے عرصہ میں وہ ترقی نہیں ملی۔جو ہمیں کوئی ہے۔آنحضرت کے پاس اشاعت کا ذریعہ اور تھا۔پس حضرت نبی کریم کی ترقی کو چھوڑ کر کسی نبی کی قوم نے اس سرعت سے ترقی نہیں کی جس سے ہم کر رہے ہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام سے جو قوم بنی تاریخ سے ظاہر ہے کہ ان میں مومنین بہت تھوڑے تھے۔تمام قوم محض حکم فرعون سے بچنے کے لیے آپ کے ساتھ ہو گئی تھی۔قرآن کریم د تورات سے بھی ظاہر ہے۔پس حضرت موسیٰ سے ملنے والوں میں نبوت موسیٰ کے ماننے والے بہت تھوڑے تھے۔اس لیے حضرت موسی کی کامیابی نبی کریم کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں۔اور پھر حضرت مسیح موعود کے رنگ میں حضرت نبی کریم کی غلامی کے طفیل جو ترتی ہوئی۔وہ