خطبات محمود (جلد 6) — Page 369
پھیرتا جاتا ہے۔وہ شوخ ہوتی جاتی ہے۔اور ایک دفعہ کا رنگ نسل کے رنگ کی مانند ہوتا ہے جو جلد رسٹ جاتا ہے۔دوسرا سیاہی کے قریب۔اسی طرح ترقی کرتے کرتے نقش کی مانند ہو جاتا ہے جو اندر داخل ہو جاتا ہے اور پھر ترقی ہو تو ایسا ہوتا ہے۔جیسے کھود کر نقش بنائے جائیں۔اسی طرح جو باتیں روحانیت سے تعلق رکھتی ہیں۔اگر ایک آدھ دفعہ من یا پڑھ لی جائیں۔تو وہ بھی پینسل کی لکیر کی طرح ہوتی ہیں ، لیکن جوں جوں ان پر غور کرتے چلے جاؤ۔اور ان کو استعمال میں لاؤ وہ ذہن میں بیٹھتی چلی جاتی ہیں۔تو جب تک علم پر عمل نہ کیا جائے۔علم مفید نہیں ہو سکتا۔پس جو باتیں آپ کو روحانیت کے متعلق بتائی گئی ہیں۔ان پر عمل کرو۔علم کی باتوں کو دہراؤ تبلیغ کے متعلق جو کچھ کہا گیا ہے۔اس کی پابندی کرو۔معاملات کو درست بناؤ۔اگر ان چاروں باتوں کو ل میں نہلایا گیا۔تو یہ نتیجہ نکلے گا کہ ابوالوں نے اپنے مالوں کو ضائع کیا۔اپنے وقتوں کو ضائع کیا، اپنے جسموں کو تکلیف میں ڈالا جس کا کچھ بھی فائدہ نہ ہوا پس میں ان تمام دوستوں کو جو بیاں موجود ہیں۔خواہ وہ قادیان کے ہوں یا بیرونجات گے۔اور ان تمام کو جو بیر و نجات میں ہیں۔توجہ دلاتا ہوں کہ ان کو کوشش کرنی چاہیئے کہ ان باتوں سے فائدہ اُٹھائیں۔اور خصوصاً ان دو امور کو فراموش نہ کریں اقول اندرونی اصلاح۔اور دوسرے بیرونی اصلاح - اگر یہ دونوں باتیں نہ ہوں۔تو امن نہیں۔بلکہ ہلاکت ہے پس جماعت کو چاہیئے کہ جلسہ سے کار آمد فوائد حاصل کرے تاکہ ان کے لیے جلسہ میں آنا با برکت ثابت ہو۔اور آئندہ ترقی کے لیے ) الفضل (19 جنوری ۱۹۲ ) ممد و معاون "