خطبات محمود (جلد 6) — Page 370
69 لندن میں بیت الذكر اللہ کے فقیروں کا بادشاہوں پر فتح پانے کا عزم د فرموده ۹ جنوری ۱۹۲۰ حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- اللہ کے فضل اور کرم سے اور اس کی دی ہوئی توفیق سے ہمارا ارادہ ہے اور جیسا کہ دوستوں کو معلوم ہے کہ خاص لنڈن میں یا لنڈن کے پاس ایک مسجد تیار کریں۔اس کے متعلق آج سے تین دن پہلے مغرب کے بعد میں نے قادیان میں تحریک کی۔پھر پرسوں دن میں تمام دوستوں کو باقاعدہ جمع کر کے تحریک کی۔چونکہ جمعہ کے روز اطراف و انواح سے احمدی دوست جمعہ میں شمولیت کے لیے آتے ہیں۔اس لیے میں ان کی اطلاع کے لیے اور نیزان کی بھی اطلاع کے لیے جنہوں نے پہلے نہ سنا ہو یا کنا ہو تو پوری وضعیت نہ ہوئی ہو یا پوری واقفیت تو ہوئی ہو۔مگر توجہ نہ کی ہو یا توجہ تو کی ہو مگر مناسب توجہ نہ کی ہو جس قدر کہ اس کام کے لیے ضروری ہے۔ان سب کے لیے آج میں خطبہ جمعہ میں بھی اسی امر کے متعلق توجہ دلاتا ہوں۔یہ باتیں میں پہلے بتا چکا ہوں کہ ولایت میں احمدیہ مسجد کا بنا ضروری ہے اور کیوں ضروری ہے ؟ آپ کو معلوم ہے کہ وہاں ہم ہزاروں روپیہ خرچ کر رہے ہیں۔اس وقت تک کہ وہاں مشن قائم ہوتے چھ سال ہو چکے ہیں۔انداز آپ پچاس ہزار روپیہ ہمارا خرچ ہو چکا ہے اور ہر سال سات آٹھ ہزار روپیہ خرچ ہوتا ہے۔اتنے بڑے خرچ کے بعد جب مفاد کا وقت ہو۔تو خاص کوشش کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر اس وقت اس کام سے ہاتھ اٹھا لیا جائے یا اس خرچ ہو چکنے کے بعد جس ضرورت کو پورا کرنے کی وہاں حاجت ہو۔اس کو پورا نہ کیا جائے۔تو اس کی مثال ایسی ہی ہو گی کہ کوئی شخص ایک مکان بنانے کی تجویز کرے۔پہلے بنیا دیں کھو دے اور ان کو عمدہ طور پر بھر دے۔اور فرش بھی