خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 327 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 327

61 حضرت مسیح موعود کے اولین خدام کی قدر کرو ) فرموده ۲۳ اکتور ولت ) حضور انور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا کہ۔کسی شخص نے نہایت دانائی بھری بات کہی ہے کہ جو شخص ابتدا کرتا ہے۔اسی کو فضیلت حاصل ہوتی ہے۔کیوں یا اسلئے کہ جو شخص ابتدا کرتا ہے اس کے رستہ میں جیں قدر مشکلات ہوتی ہیں۔اس کا علم دوسرے کو نہیں ہو سکتا۔نئے کام میں بیسیوں روکا دیں ہوتی ہیں جن کا کسی کو علم نہیں ہوتا۔اور جب کوئی شخص اس کام پر ہاتھ ڈالتا ہے۔تب اس کو علم ہوتا ہے کہ اس رستہ میں کیا گیا وقتیں اور روکاوٹیں ہیں۔بعض دفعہ شکلات دیکھتا ہے۔ان کو محنت سے دُور کر کے اُن پر قابو پا کر کامیاب ہوتا ہے۔اور بعض دفعہ کوشش کرتا ہے اور نا کام رہتا ہے۔بعد میں آنے والے لوگ اس تجربہ سے فائدہ اُٹھا لیتے اور معلوم کر لیتے ہیں کہ اس کے کام میں فلاں فلاں غلط طریقے اختیار کئے گئے تھے۔جونا کامی کا باعث ہوتے ہیں۔ان کو ترک کرنا چاہیئے۔اور فلاں طریق سے کامیابی ہوتی ہے۔اُسے اختیار کرنا چاہیے۔اس طرح ابتداء کرنے والا شخص جہاں اپنے نقصان سے دوسروں کے نفع کا موجب ہو جاتا ہے۔وہاں وہ دوسروں کے لیے بطور استاد کے بھی ہوتا ہے۔اور دوسرے اس کے شاگرد ہوتے ہیں۔پس ہر ایک کام میں ابتداء کرنے والوں کو دوسروں پر فضیلت حاصل ہو جاتی ہے کیونکہ وہ لوگ تمام تکلیفیں اُٹھا کر راستہ کو صاف کر دیتے ہیں۔اس مسئلہ کی خدا تعالے نے بھی جو تمام علموں کو پیدا کرنے والا ہے۔تصدیق کی ہے۔اور اس کی تصدیق کے بعد کسی شبہ کی گنجائش نہیں رہتی۔ہم قرآن کریم میں دیکھتے ہیں کہ جن لوگوں نے ابتداء میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مانا۔ان کی نسبت قرآن کریم میں بہت سے تعریفی کلمات وارد ہیں اور اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے پہلے جو لوگ ہو چکے ہیں۔ان کے متعلق بھی حکم ہے۔فبهداهم اقتده (الانعام ۹۱ ) اسی طرح ان لة التوبة : 14