خطبات محمود (جلد 6) — Page 328
لوگوں کے ذکر میں جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ عیہ علم کو مانا فرماتا ہے وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِاحْسانِ التوبہ ) کہ ان صحابہ کرام کی جو پیروی نیکی کے ساتھ کرینگے۔اس پر بھی اللہ تعالیٰ کے احسان ہونگے اور ان کو بھی رضائے الہی حاصل ہوگی۔یہ کافی تھا کہ کہ دیا جاتا کہ ان احکام کی پیروی کریں۔جن کی صحابہ نے کی۔لیکن خدا کہتا ہے۔ان لوگوں کی پیروی کرنے والے پر یہ انعام ہو نگے۔ان لوگوں کی مشکلات کا خیال کر کے ان کو ایک خاص درجہ دے دیا کہ جوان کی اتباع کریگا۔اس پر احسان ہوگا۔حالانکہ اتباع ان کی نہیں۔بلکہ قرآن کریم کی ہے اور ان کو بھی جو درجہ حاصل ہوا ہے۔وہ اپنی احکام کی اتباع سے مال ہوا ہے، جو قرآن کریم میں بیان کئے گئے مگر باوجود اس کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جوان لوگوں کی اتباع کریں گے۔اللہ تعالے ان پر اپنے خاص افضال نازل کریگا۔سورۃ فاتحہ میں بھی اسی مضمون کو ادا کیا گیا ہے فرمایا اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ - اس میں یہ نہیں بتایا کہ ہمیں اس صراط پر چلا جو نبیوں کی ہے بلکہ فرمایا کہ اس راہ پر چلا۔جو منظم علیم کی ہے پس اس کی وجہ ان لوگوں کی وہ مشکلات میں جو وہ اُٹھا کر دوسرو کے لیے راستہ صاف کر دیتے ہیں۔اس سے ان کی فضیلت کا پتہ لگتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص انسانوں کا شکر گزار نہیں ہوتا۔وہ خدا کا بھی شکرگزار نہیں ہو سکتا ہے وجہ یہ ہے۔انسانوں کی شکر گزاری تھوڑی ہوتی ہے۔جب ایک شخص تھوڑا کام نہ کر سکے۔تو وہ زیادہ کب کر سکتا ہے۔پس اسی قانون کے ماتحت وہ لوگ جو ابتدار میں انبیا۔کو مانتے ہیں دنیا کے محسن ہوتے ہیں۔اس لیے ان کی اتباع ان محسنوں کا شکریہ ہوتا ہے۔وہ لوگ خطرناک مخالفتوں اور دشمنیوں کو سر پر اٹھاتے ہیں۔اور محض خدا کے لیے حق کو قبول کرتے ہیں، لیکن اگر وہ ان مشکلات تکالیف کو نہ اُٹھاتے جو ابتدائی زمانہ میں پیش آتی ہیں۔تو ان کمزوروں کو حق کے قبول کرنے کی کیسے توفیق ملتی۔جولوگوں کے خوف اور ڈر کی وجہ سے صداقت کو قبول کرنے کی جرات نہیں کرتے ، لیکن جب کچھ لوگ حق کو قبول کر کے تکالیف اور مصائب کو برداشت کرتے ہیں۔طرح طرح سے ستاتے جاتے ہیں قسم قسم کے دکھ دیتے جاتے ہیں۔مگر مخالف ان کو حق کے ترک کرانے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔بلکہ نا کام اور نامرد ہو جاتے ہیں۔تو کمزور دل لوگوں کو بھی یقین ہو جاتا ہے کہ جیسا مخالف ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکے اسی طرح ہمارا بھی کوئی کچھ بگاڑ نہیں سکے گا۔اس طرح وہ بھی حق کو قبول کر لیتے ہیں۔ے مجمع بحارالانوار جلد ۲ باب اسین