خطبات محمود (جلد 6) — Page 257
۲۵۷ ا ل ولا ولم نے بھی یہ فرمایا ہے کہ خدا کے غضب سے ڈرو، اگر اس کی رحمت سے مایوس نہ ہو کیونکہ محض خوف گھر ہے۔ایک ایسا شخص جسے ہر وقت ہی خیال ہو کہ خدا مجھے ہرگز نہیں چھوڑے گا۔ضرور مزا دیا اور کسی امر کے متعلق مایوسی کو اپنے دل میں جگہ دیتا ہے وہ اس کی رحمت کو بھول جاتا ہے۔مگر تم یا درکھو کہ کوئی برسے سے بڑا ساتھ نہیں مایوس نہ کرنے پائے تم ہمیشہ یہ یقین رکھو کہ خدا ہے اور اس کی رحمت ہر مصیبت سے تمہیں نجات دے سکتی ہے پیس کوئی آفت نہ ہو جو تمہیں مایوس کرینگے۔کوئی تکلیف نہ ہو جو تمہیں نا امید کر سکے۔کوئی دکھ نہ ہو جو تمہیں نا امید کر سکے۔تمہارا اس خدا کے ساتھ تعلق ہے جو ہر ایک بڑی سے بڑی مصیبت اور روک کو دور کرسکتا ہے۔اگر تم یہبات یاد رکھو۔تو مہارے راستہ میں اگر مصائب کے پہاڑ بھی آجائیں تو وہ دُور کر دیتے جائیں گے۔تمہیں ہر مقصد اور مدعا میں کامیابی نصیب ہوگی۔اللہ تعالیٰ ہماری جماعت پر رحم کرے اور اسی نقطہ ایمان پر کھڑا کرے جب الیسا ایمان حاصل ہو جائیگا۔تو خدا اپنی اصلی معرفت اور اپنی اصلی شان کے ساتھ میں نظر آجائے گا۔اتنا فرما کر حضور بیٹھ گئے۔جب دوسرے خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے۔تو فرمایا ) میں نے مایوسی کے متعلق بتایا ہے کہ یہ ہلاکت کا باعث ہوتی ہے اور یہ ثابت شدہ بات ہے کہ نہیں مریض کو یقین ہو جائے، کہ میں نہیں بچوں گا۔وہ نہیں بچ سکتا۔ڈاکٹر اپنی کتابوں میں اس کو موت کی علامتوں میں سے ایک علامت بتاتے ہیں چونکہ انہوں نے علم النفس یعنی وہ علم جس سے قلبی کیفیات معلوم ہوتی ہیں۔نہیں پڑھا ہوتا کہ جذبات کا کیا اثر ہوتا ہے۔اس لیے انہوں نے اس کو علامت قرار دیدیا۔ورنہ یہ علامت نہیں یہ خیال ہی جو کہ مایوسی ہے۔ان کی موت کا باعث ہوتا ہے؟ الفضل در جولائی انه )