خطبات محمود (جلد 6) — Page 258
48 کے انہی کی مخالفت جب ہوا کہیے ) فرموده ۴ جولائی 2 حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔اللہ تعالیٰ کی یہ سنت قدیم سے چلی آتی ہے کہ وہ زمانہ کی ضرورت کے مطابق اپنے مامور دنیا میں بھیجتا رہتا ہے جب بھی زمانہ اس بات کا محتاج ہوتا ہے۔زمانہ سے میری مراد اس زمانہ کے لوگ ہیں ) تو وہ اپنے بندوں میں سے ایک بندے کو اس زمانہ کے لیے چنا اور حکم دیتا ہے کہ دنیا کی اصلاح کے لیے کھڑا ہو جا۔چونکہ وہ خدا کے حکم سے کھڑا ہوتا ہے۔اس کے دیئے ہوئے نام کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے اور اس کے بتائے ہوتے مقام پر کھڑا ہوتا ہے۔اس لیے اس کی بات کو خدا اپنی بات اور اس کے کام کو خدا اپنا کام قرار دیتا ہے۔اور جو اس کے مقابلہ میں آتے ہیں۔وہ تباہ و برباد در رسوا اور ذلیل ہوتے ہیں کبھی نہیں ہوا کہ خدا کا نام لیکر ایک پراستباز کھڑا ہوا ہو اور پھر دنیا نے اس کو نا کام دیکھا ہو وہ ہمیشہ کامیاب ہی ہوتے ہیں۔اور ان کے دشمن ہمیشہ ہی نا کامی و نامرادی کا منہ دیکھتے ہیں۔نادان ان کی ظاہری غربت کو دیکھکر کہتے ہیں کہ یہ ہمارا کیا کر سکتے ہیں۔ان کی نظر ان کے چہرہ پر ہوتی ہے۔مگر اس کے چہرہ کو نہیں دیکھتے جو ان میں مخفی ہوتا ہے۔لوگ ان کے ہاتھ کو دیکھتے ہیں مگر اس کے ہاتھ کو نہیں دیکھتے۔جس کی مارہ کی برداشت دنیا میں کوئی نہیں کر سکتا۔وجہ یہ کہ چونکہ نبیوں کے مخالف ظاہر پرست ہوتے ہیں۔اس لیے ان کی نظر ظاہر پر ہی پڑتی ہے۔حالانکہ ان کی ہلاکت و بربادی کے سامان باطن میں کئے گئے ہوتے ہیں۔ان کی مثال اس شہر کے باشندوں کی طرح ہوتی ہے۔جو ایک ایسے آتش فشاں پہاڑ پر رہتے ہوں جس کے ارد گرد سبزہ زار ہو۔زمین ہری بھری ہو۔گلیاں اور ان کی گزر گاہیں شاداب ہوں۔جنگلوں میں میں شادابی نظر آتی ہو۔پانی کے چشمہ بہہ رہے ہوں۔حالانکہ ان کی گلیوں۔ان کے مکانوں۔اور ان کے جنگلوں اور چشموں کے نیچے ان کی تباہیوں کے سامان ہو رہے ہوتے ہیں۔اور جب وہ سامان