خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 215 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 215

۲۱۵ کی طرف سے ایک نبی آیا کہ ان کو انعمت علیہم میں داخل کرے مگر انہوں نے اس کا مال کیا اور ایسا مقالہ کیا کہ منی شرار یں کہ تفرق طور پر سب نبیوں کے مقابلہ میںکی گئیں وہ سب کی سب آپ کے مقابلہ یں اور پ کو دکھ دینے کے لیے کی گئیں۔جو شرار میں حضرت موسی کے مخالفوں نے موسی کے مقابلہ میں کہیں " ت مسیح موعود کے مقابلہ میں کی گئیں۔جو کچھ عیسی کے مقابلہ میں کیا گیا وہ آپ کے مقابلہ میں کیا گیا۔جو ابراہیم کے مقابل میں کیا گیا وہ یہاں بھی کیا گیا۔اگر سیلو نے انبیاء کوقتل کرنا چاہا تو میں بھی قتل کرنیکی کوششیں کی گئیں۔اگر پہلے انبیاء کو ذلیل کرنا چاہا گیا۔تو آپ کو بھی ذلیل کرنے کی کوشش کی گئی۔غرض وہ تمام حرکتیں آپ کے مقابلہ میں کی گئیں جو پہلے نبیوں کے مقابلہ میں کی گئی تھیں۔جن سے ثابت ہوا کہ حضرت مسیح موعود بروز میں آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم کے۔اور آنحضرت وارث ہیں تمام انبیاء کی صفات کے لیکن جہاں یہ ثابت ہوا کہ حضرت مسیح موعود آنحضر صلی الہ علیہ وسم کے بروز میں ہاں یہ بھی پتہ لگ گیا۔کہ آپ کے مخالف بروز میں پہلے تمام انبیاء کے مخالفین کے اور چونکہ انہوں نے تمام وہ شرارتیں کیں جو پلے انبیاء کے مقابلہ میں کی گئیں۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے انہیں ہر ایک رنگ کے عذابوں کا نمونہ دکھایا۔نوح کے وقت کا عذاب اس نے دکھایا۔ابراہیم کے مخالفوں کو جو عذاب دیئے گئے تھے۔وہ یہاں آتے۔اسمعیل و اسحاق دیوسف کے مخالفوں کے عذاب کے نمونے یہاں دکھائے گئے۔غرض جسقدر قومیں گزریں ہیں ان کو جو عذاب دیتے گئے تھے۔وہ سب مذاب اس زمانہ میں بھیجے گئے تا لوگوں کی آنکھیں کھلیں۔زلزلوں اور آندھیوں نے ملکوں گوتہ و بالا کر ڈالا۔آسمان سے پتھر برسے۔زمین کے پر نچھے اُڑ گئے۔دُور کی بات تو الگ رہی۔یہاں سے پہ پچاس میل کے فاصلے پر کانگڑہ ہے۔وہاں یہ نظارے دیکھنے میں آئے۔پھر طوفان آتے اور ایسے آئے کہ ہزاروں لاکھوں غرق ہو گئے۔قحط پڑے اور ایسے پڑے کہ ہٹنے میں ہی نہیں آتے۔بیماریاں پڑی اور ایسی پڑیں کہ ان کے نام تک کسی نے پہلے نہیں کئے تھے۔طاعون پھوٹی ہیضہ پھیلا۔بخار آیا۔مگر لوگوں نے کہا کہ طاعون آیا ہی کرتی ہے مہینہ پھیلا ہی کرتا ہے۔بخار ہوا ہی کرتے ہیں۔انفلوائنزا پہلے بھی پھیل چکا مگر ہم کہتے ہیں کہ ڈاکٹر بلا رہے ہیں کہ اس قسم کا انفلوائنزا جو الیسا زہریلا ہو کبھی نہیں آیا جیسا کہ گزشتہ ایام میں گزرا ہے۔اب ایک نیا بخار پھیلا ہے۔جس کا نام قحط کا بخار رکھ گیا ہے۔اس کی یہ کیفیت ہے کہ ایک ہفتہ چڑھتا ہے پھر اتر جاتا ہے۔ہفتہ بعد پھر چڑھتا ہے۔اسی طرح کئی کئی دورے کرتا ہے۔اس سے لوگ مر بھی جاتے ہیں اور بیچ بھی رہتے ہیں۔لوگ کہتے ہیں طاعون - انفلوائنزا اور بخار ہیضے وغیرہ پہلے بھی پھیلتے تھے۔کیا ہوا اگر اب پھیل گئے ؟ مگر ہم کہتے ہیں۔کہ ہم تسلیم کرتے ہیں۔پہلے بھی یہ امراض