خطبات محمود (جلد 6) — Page 216
پڑے مگر نہ تو موجودہ شکل میں پہلے پڑے ہیں یہ تمام کے تمام۔ایک وقت اور ایک زمانہ میں آئے کوئی بتلا سکتا ہے کہ وہ کونسا زمانہ تھا جس میں یہ تمام آفتیں اور تمام ہلاکتیں جمع ہوئی تھیں ؟ ہرگز نہیں۔اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا۔کہ چونکہ پہلے بھی بیماریاں آیا کرتی تھیں۔اس لیے اب بھی آتی ہیں۔بلکہ یہ خدا کا خاص عذاب ہے، جو لوگوں کی نافرمانیوں کی وجہ سے آیا ہے اسے اتفاقیہ اور عام طور پر آنے والی بلاؤں کی طرح نہیں کیا جا سکتا۔کیونکہ اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے۔کہ فلاں سڑک پر ایک آدمی آئے گا۔تو دوسرا کہ سکتا ہے کہ آدمی آیا ہی کرتے ہیں۔کیا ہوا اگر آئیگا۔مگر جب وہ یہ کہدے کہ ایک ایسا آدمی آئیگا۔جس کا قد اتنا ہو گا۔رنگ و شکل ایسی ہوگی ٹوپی ایسی کوٹ و قمیص ایسار پاجامہ ایسا ہو گا۔چھڑی ایسی ہوگی۔اس کے بوسٹ ایسے ہونگے۔تو اس کے متعلق نہیں کہا جا سکتا کہ ایسے آدمی آیا ہی کرتے ہیں۔پس اگر اس زمانہ میں صرف ایک نشانی ہو تو کہو کہ ایسا ہوتا آیا ہے لیکن سب باتوں کا ایک زمانہ میں جمع ہونا ایسا ہے کہ جس کی پہلے نظیر نہیں ملتی۔پس اودھر یہ مجموعہ عذابوں کا ہے اور ادھر ان کے متعلق پیش گوئیاں موجود ہیں۔پس یہ خدا کا غضب بھڑک رہا ہے۔میں نے کئی دفعہ بتایا ہے کہ میرے ایک مضمون پر جومیں نے حضرت مسیح موعود کی صداقت پر لکھ کر عام طور پر شائع کر دیا تھا۔مجھے لکھا گیا تھا کہ جب تک قسطنطنیہ کی حکومت تباہ نہ ہوئے اور مسلمانوں کی کوئی سلطنت باقی نہ رہے اس وقت تک مہدی نہیں آسکتا۔اس تحریر کو آئے ابھی چند ہی دن ہوتے تھے کہ ترکی لڑائی میں شامل ہوگیا۔میں نے اسی وقت کہ دیا تھا کہ مسلمانوں نے اپنی کر تو توں۔اپنی بداعمالیوں اپنی شرارتوں اور اپنی خباثتوں سے خدا تعالے کا غضب بھڑکا دیا ہے۔اور اب منشاہ الہی یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت تک مسلمانوں کی جو نام کی حکومت تھی وہ بھی نہ رہے۔اور یہ اس لیے کہ انہوں نے خدائے تعالیٰ کی نافرمانیاں کرنے والوں کے تباہ ہونے کے کئی ایک نمونے اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھے۔کئی سلطنتوں کو خوار اور ذلیل ہوتے دیکھا۔ان کے لیے بڑا موقع تھا کہ ان سے عبرت حاصل کرتے۔خدائے تعالیٰ سے تعلق قائم کرتے۔قرآن شریف کی طرف لوٹتے بلکہ یہ اپنی بدکاریوں سے ایک قدم بھی پیچھے ہٹے بلکہ آگے بڑھتے گئے۔سو خدائے تعالیٰ کا فیصلہ صادر ہو گیا۔اور اب معلوم ہوتا ہے کہ یہ نام کی حکومت بھی دُنیا سے اُٹھ جائیگی۔ر خطبه جمعه مطبوعه الفضل ۱۳/ نومبر سته ) اب دیکھ لو قسطنطنیہ بھی مفتوح ہو گیا۔پھر حضرت مسیح موعود کے مخالف آپ کو اکثر کہا کرتے تھے۔کابل میں چلو تو پھر دیکھو۔تمہارے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے۔اب ایسے سامان پیدا ہو رہے ہیں کہ عنقریب انشاء اللہ ہم کابل میں جائیں گے۔اور ان کو دکھا دینگے کہ جس کو وہ قتل کرانا چاہتے تھے۔اس کے خدام