خطبات محمود (جلد 6) — Page 207
4۔6 40 ہمارا ہتھیار دُعا ہے د فرموده ۹ رمتی ۱۹۱۹مه حضور انور نے تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔ہماری جماعت کی حالت اور اس کی تعداد اور اس کی طاقت جتنی بھی ہے۔دوسرے لوگ تو اس کو حقار سے دیکھتے ہی ہیں مگر ہم بھی اپنی حقیقت سے ناواقف نہیں۔اس میں شبہ نہیں کہ عموما لوگ اپنے آپ کو بڑا سمجھا کرتے ہیں۔ذرا کسی کو مال ملتا ہے تو وہ اپنے آپ کو فرعون سے بڑا سمجھتا ہے۔ذرا کسی کو طاقت میتر ہوتی ہے۔تو وہ رستم سے زیادہ جری اپنے آپ کو سمجھتا ہے۔مگر ہماری کمزوری اتنی بڑھی ہوئی ہے کہ ہم اپنی کمزوری کو محسوس کرتے ہیں۔حالانکہ لوگ اپنی کمزوری کو محسوس نہیں کیا کرتے۔ہم مال کے لحاظ سے دنیا کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔اور نہ قوت سے مقابلہ کر سکتے ہیں نہ طاقت سے اور نہ جتھے کے لحاظ سے مقابلہ کر سکتے ہیں۔نہ سیاسی رسوخ سے مقابلہ کر سکتے ہیں۔نہ حکومت سے نہ سلطنت ہے۔غرض ان باتوں میں سے کسی بھی لحاظ سے نہیں کسی قسم کی فوقیت دنیا پر حاصل نہیں۔اس کے مقابلہ میں ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ کوئی بھی مذہبی سلسلہ نہیں جو ہمارا دشمن نہیں۔ہو سکتا ہے کہ کوئی کمزور ہو مگر اس کا دشمن بھی نہ ہو۔تو با وجود اس کے کمزور ہونے کے اس کے لیے خطرات نہیں ہیں۔چونکہ اس کے مقابلہ میں کوئی نہیں۔اس لیے اس کو خطرہ نہیں۔مگر ہمارا معاملہ اس کے الٹ ہے ایک طرف تو کمزور ہم سے زیادہ کوئی نہیں دوسری طرف ہم سے زیادہ کسی کے دشمن نہیں۔یا یوں کہو کہ جیں قدر مذہبی سلسلے ہیں۔وہ سب کے سب ہمیں مٹانے کے درپے ہیں۔کیونکہ جو ہم تعلیم دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔سب کے سب اس سے ڈرتے ہیں اور یقین کرتے ہیں کہ اس تعلیم کے سامنے سب تعلیمیں ماند ہو جائیں گی۔جیسا کہ بکری شیر سے ڈرا کرتی ہے۔اسی طرح اس تعلیم سے جو ہمیں دیتی ہے تمام سلسلے ڈرتے ہیں۔اس لیے سارے کے سارے ہمارے مقابلہ کے لیے کھڑے ہیں۔مذہبی طور پر نہ عیسائی ہم سے ہمدردی رکھتے ہیں اور نہ سکھ نہ ہندو نہ آریہ نچینی نہ بدھوں کو ہم سے ہمدردی ہے۔نہ کسی اور کو یعنی مذہبی