خطبات محمود (جلد 6) — Page 159
چاہیئے کہ جس غرض اور مقصد کو حاصل کرنے کے لیے کھڑا ہوا ہو۔اس کے لیے دیکھے کہ کون سے ذرائع خدا نے اس میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے مقرر کئے ہیں۔اس وقت جو سورۃ میں نے پڑھی ہے اس میں خدا تعالیٰ نے ایک خاص بات کی طرف اشارہ فرمایا ہے اور میں وہ بات آپ لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَالْعَصْرِ ان الانسان لفي خسر مہم زمانہ کی قسم کھتے ہیں یعنی ہم زمان کو شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔تم دیکھو کہ سارے کے سارے انسان گھاٹے میں ہیں۔اور جو چیز انسان سے تعلق رکھتی ہے اس میں زوال ہی زوال ہے۔مگر ایک چیز ہے کہ جس کے پاس وہ ہو اس کا قدم آگے ہی آگے بڑھتا ہے اور کبھی پیچھے نہیں ہوتا۔وہ ترقی پر ترقی حاصل کرتا جاتا ہے۔تنزل کبھی اس کے پاس نہیں آتا۔اور وہ یہ ہے کہ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحُتِ انسان ایمان لاتے اور عمل صالح کرے۔بظاہر یہ معمولی بات معلوم ہوگی کہ ایمان لانا۔اور عمل صالح کرنا کونسی ایسی بات ہے جو معلوم نہیں اور بہتوں کو خیال پیدا ہوا ہو گا۔کہ یہ توایسی بات ہے جس پر ہم پہلے سے عمل کرتے ہیں لیکن میں اس میں سے آپ کو ایک ایسی بات سنانا چاہتا ہوں۔جو آپ نے پہلے نہیں سنی۔اس میں کوئی تنگ نہیں کہ آپ لوگوں نے پڑھا ہوا ہے کہ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصلعت میں خدا تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ ایمان لاؤ اور عمل صالح کرو مگر میں اس کے علاوہ ایک اور بات بتانا چاہتا ہوں۔کیونکہ اس آیت کے صرف وہی معنی نہیں۔جو عام لوگ سمجھتے ہیں۔بلکہ ایک اور بھی ہیں۔اور اس طرح کہ جب صرف الذين امنوا ہو تو اس کے اور معنی ہیں جب عملوا الصالحت ہو تو اور ، لیکن جب ان دونوں کو ملاکر پڑھا جائے۔تو اور معنی ہوتے ہیں اور تمام وہ چیزیں جو خدا نے پیدا کی ہیں۔ان میں میں بات پائی جاتی ہے کہ جب خاص وہ مفرد ہوتی ہیں۔تو ان کا رنگ اور ہوتا ہے اور جب دو چیزیں ملتی ہیں۔تو میرا نتیجہ پیدا ہوتا ہے اسی طرح اس آیت میں ہے۔میرے نزدیک اور مہرایک اس شخص کے نزدیک جو عقل سے کام لیگا۔یقینی بات ہے کہ ایمان کامل کا نتیجہ اعمال صالح ہوتے ہیں اور یہ ممکن ہی نہیں کہ کسی بات پر انسان ایمان لاتے اور پھر اس کے مطابق عمل نہ ہوں جس کو معلوم ہو کہ یہ زہر کی پڑیا ہے۔وہ کبھی اسے نہیں کھاتا جس کو معلوم ہو کہ اس بل میں سانپ ہے وہ کبھی اس میں انگلی نہیں ڈالتا۔اور جس کو معلوم ہو کہ اس جنگل میں شیر ہے وہ ہرگز اس میں نہیں جاتا۔تو ایمان میں یہ طاقت ہے کہ انسان کو عمل کرنے پر مجبور کر دیتا ہے اور ممکن نہیں کہ ایمان اور یقین ہو۔اور انسان عمل نہ