خطبات محمود (جلد 6) — Page 158
۱۵۸ 30 کامیابی کے ذرائع فرموده ۱۴ فروری شانه بمقام لاہور ) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے سورۃ العصر کی تلاوت فرمائی :- وَالْعَصْرِه إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرِه إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّهُ وَتَوَا صوا بالصبرِه (العصر) اور فرمایا :- انسان کی کامیابی اور اس کی ترقی کے لیے اللہ تعالیٰ نے کچھ قوانین مقرر کئے ہوئے ہیں ان کو نظر انداز کر کے یا ان کی پروانہ کر کے اگر کوئی انسان چاہے کہ میں کامیاب ہو جاؤں تو وہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔دراصل ایک دائرہ کے اندر انسان کو آزاد رکھا گیا ہے، لیکن اس کے باہر د کبھی نہیں چل سکتا۔اور ہرانسانی طاقت کا یہی حال ہے کہ جو حد اس کی مقرر ہے اس سے باہر خواہ انسان کتنا ہی نکلنا چاہے نہیں نکل سکتا۔مثلاً انسانی قوت ہے ، بڑے بڑے مضبوط اور زور آور انسان ہوتے ہیں، لیکن ان کی طاقت کی ایک حد بندی ہوتی ہے۔اس سے آگے وہ نہیں بڑھ سکتے۔پھر انسانی قد ہیں۔ان میں اختلاف ہے۔کوئی بڑا ہے۔کوئی چھوٹا ، لیکن ان کی بھی حد بندی ہے کہ چھوٹے سے چھوٹا قد اتنا ہوتا ہے اور بڑے سے بڑا اتنا۔یہ بھی نہیں ہوگا کہ پچاس ، گرہ کا کوئی انسان مل سکے۔قصے کہانی کی کتابوں میں تو اتنے قد کے انسان مل جائیں گے۔مگر دنیا میں جو انسان پاتے جاتے ہیں۔ان میں نہیں ملیں گے۔پھر ہر علم اور فن کی ایک حد بندی ہے۔اس سے باہر نکلنا ناممکن ہے۔تو خدا تعالیٰ کی طرف سے سے ہر چیز کے کچھ حدود مقرر ہیں۔ان کو توڑ کر اگر کوئی چاہیے کہ میں خود فائدہ حاصل کرلوں۔یا اپنے مخالف کو نقصان پہنچا سکوں۔تو وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔کامیاب اُس وقت ہوگا جب اُن قواعد کی پابندی کرے گا جو خدا نے مقرر کئے ہیں۔یہیں ہر وہ انسان جو کامیاب ہونا چاہیے اسے