خطبات محمود (جلد 6) — Page 126
نے طوفان مچارکھا ہے اس کی خبر حضرت مسیح موعود نے خدا تعالیٰ سے پا کر بہت عرصہ قبل دی تھی۔چنانچہ آپ کو الہام ہوا تھا الامراض تشاع والنفوس تضاع لیے کہ امراض پھیلاتے جائیں گے اور جانیں ضائع کی جائیں گی۔یہ الہام آپ نے آج سے پچیس سال قبل شائع فرمایا تھا۔پس آج وہ پورا ہو رہا ہے۔جبکہ نئی نئی قسم کی وبائیں دنیا میں پھیل رہی اور انسانوں کو ہلاک کر رہی ہیں۔مجھے وہ درجہ تو حاصل نہیں ہے جو حضرت مسیح موعود کو حاصل تھا۔آپ خدا کے نبی اور رسول تھے لیکن آپ کی نیابت سے جو درجہ حاصل ہے اس کی وجہ سے خدا تعالے نے اب سے قریباً چار سال پہلے اس بیماری کے متعلق بذریعہ رویا۔اطلاع دی تھی۔وہ رویا۔میں نے اسی مسجد میں درس کے وقت لوگوں کو سُنا دی تھی۔اور شائع کا بھی ہو چکی ہے۔یہ رویا۔سو از دسمبر سلالہ کے اخبار الفضل میں شائع ہو چکی ہے۔جو بہ لفظہ درج ذیل ہے :- جیسی اس مسجد (مسجد اقصی میں بیچوں بیچ ایک نالی جاتی ہے۔اسی طرح کی ایک نہر ہے اور وہ بہت دُور تک چلی جاتی ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس میں بڑا پانی ہے مگر بندوں کی وجہ سے اس کے اندر ہی بند ہے۔اس کے اردگرد ایک نہایت خوبصورت باغ ہے۔میں اس میں ٹمل رہا ہوں۔اور ایک اور آدمی بھی میرے ساتھ ہے۔ٹھلتے مسلتے نہر کی پرلی طرف میں تھے چودھری فتح محمد صاحب کو دیکھا اتنے میں ایک شخص آیا اور میرے ساتھ میرے گھر کی مستورات بھی ہیں اس نے مجھے کہا کہ گھر کی مستورات کو پردہ کی تکلیف ہوتی ہے انھیں کہدیں صرف باغ میں نہیں۔میں جب اس جگہ سے ہٹ کر دوسری طرف گیا ہوں تو مجھے بڑے زور سے پانی کے بہنے کی سرسر آواز آئی۔اس وقت میں جس طرح پرانے منقبر سے بنے ہوتے ہیں۔ویسے مکان میں کھڑا ہوں وہ مقبرہ اس طرح ہے جس طرح بادشاہوں کی قبروں پر بنے ہوتے ہیں۔میں اس کی چھت پر چڑھ گیا ہوں۔اور اس کی کئی چھتیں اونچی نیچی ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ بنی ہوتی ہیں۔مجھے پانی کی سرسر کی جو آواز آئی تو میں نے اسی نہر کی طرف دیکھا۔یا تو وہ ایسا خوبصورت نظارہ تھا کہ پرستان نظر آتا تھا یا ہر جگہ پانی پھر نا جاتا تھا۔عمارتیں گرتی جاتی تھیں درخت دیے جاتے تھے گاؤں اور شہر تباہ ہوئے جاتے تھے پانی میں لوگ ڈوب رہے تھے۔کسی کے گلے گلے کسی (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر ) تذكرهم