خطبات محمود (جلد 6) — Page 127
میں نے دیکھا کہ طوفان بڑے زور کا آیا ہے اور بہت بلند ہوتا جا رہا ہے۔لوگ مر رہے ہیں میکان گر رہے ہیں۔درخت ٹوٹ رہے ہیں۔اس وقت چو دھری فتح محمد صاحب کو میں نے دیکھا۔آخر بانی بڑھتے بڑھتے اس مکان کی چھت پر چڑھنا شروع ہو گیا جس پر تم کھڑے تھے۔اس وقت میں بہت گھبرا گیا اور ادھر اُدھر دیکھنے لگا، لیکن ہر طرف پانی ہی پانی نظر آتا تھا۔جب پانی چھت پر بھی آنے لگا۔تومیں نے زور زور سے یہ کہنا شروع کیا۔اللهم اهتديت بهديك وامنتُ بمسيحك ا وقت مجھے حضرت مسیح موعود بھی آتے ہوئے معلوم ہوئے اور اپنے لوگوں کو تاکید کی کہ یہی فقرہ پڑھیں۔جس کے معنے یہ ہیں کہ اے خدا میں تیری ہدایت کے ذریعہ ہدایت پاتا ہوں۔اور تیرے مسیح پر ایمان لاتا ہوں۔یہ میں نے پڑھنی شروع کی۔تو وہ طوفان اُتر گیا۔اس رویا۔میں جو طوفان دکھایا گیا ہے۔اس سے جنگ یورپ تو مراد ہو نہیں سکتی۔کیونکہ اس وقت جنگ ہو رہی تھی اور چودھری صاحب ولایت میں تھے۔پھر پانی سے مراد وریا ہوتی ہے۔اب جب کہ چودھری صاحب بھی یہاں آگئے ہیں۔تو یہ وبا شروع ہوتی ہے جو دکھلائی گئی تھی۔پس اس سے نجات پانے کا ایک ہی ذریعہ ہے کہ حضرت مسیح موعود کو جو اس زمانہ کے رسول ہیں۔مانا جائے کیونکہ اس نبی کے ر بقیہ حاشیہ صفحہ سابقہ کے منہ تک کسی کے سر کے اوپر پانی چڑھا جاتا تھا اور ڈوبنے والوں کا بڑا دردناک نظارہ تھا یکلخت وہ پانی اس مکان کے بھی قریب آگیا جس پر میں کھڑا تھا۔اور اس کی دیواروں سے ٹکرا نا شروع ہو گیا آگے پیچھے کی آبادی کو تباہ و برباد ہوتا دیکھ کر بے اختیار میرے منہ سے نکل گیا نوح کا طوفان، پھر پانی آں مکان کی چھت پر چڑھنا شروع ہوا اس کے ارد گرد جو دیوار تھی ایسا معلوم ہوتا تھا کہ پانی اسے توڑ کر اندر آنا چاہتا ہے اور لہریں دیوار کے اوپر سے نظر آتی تھیں اس وقت میں نے گھبرا کر ادھر ادھر رکھا مجھے کہیں آبادی نظر نہیں آتی تھی اور پانی ہی پانی نظر آتا تھا جب پانی چھت پر بھی آنے لگا تو ہیں۔نے گھبراہٹ میں پکار پکار کر اس طرح کہنا شروع کیا- اللهم اهتديت بهديك و امنت بمسيحك اس وقت مجھے ایسا معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام دوڑے چلے آتے ہیں اور گو یا لوگوں سے فرماتے ہیں کہ یہی فقرہ پڑھو تب تم اس عذاب سے بچ جاؤ گے مجھے حضرت مسیح موعود نظر نہیں آئے ، لیکن یہ میرا خیال تھا کہ آپ لوگوں کو یہ فرما رہے ہیں۔اتنے میں میں نے دیکھا کہ پانی کم ہونا شروع ہوا اور چھت گیلی گیلی نظر آنے لگی۔اس گھبراہٹ میں میری آنکھ کھل گئی۔"