خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 8 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 8

ایمان تو تمہارے دلوں میں داخل ہی نہیں ہوا۔ پھر تم کیوں اپنے آپ کو مومن کہتے ہو ۔ ہاں یہ کہو کہ ہم نے اسلام قبول کر لیا۔ مسلمان کہلانے لگ گئے ہیں ۔ باقی تمہاری حالتیں بتا رہی ہیں کہ تم میں ایمان داخل ہی نہیں ہوا۔ کیونکہ تم میںاللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا مادہ نہیں پیدا ہوا ۔ اور ان کے احکام سے جو محبت اور الفت ہوئی چاہتے ۔ وہ تم میں نہیں پائی جاتی ۔ اس کا تم میں نشان بھی نہیں ملتا تمہیں تو دنیا ہی مطلوب ہے۔ وہی تمہارا خدا اور وہی تمہارا رسول ہے۔ اور تم سمجھتے ہو کہ اگر ہم اس رنگ میں ایمان لے آئیں جس رنگ میں دوسرے لاتے ہیں تو گھاٹے اور نقصان میں رہیں گے۔ فرمایا : یہی ثبوت ہے اس بات کا کہ تمہارے اندر ایمان داخل ہی نہیں ہوا ور نہ کیا کوئی ایماندار یہ خیال ورنہ کیا کر سکتا ہے کہ خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کا یہ نتیجہ ہو سکتا ہے کہ وہ ذلیل ہو اور نقصان میں رہے۔ ہرگز نہیں۔ کیونکہ خدا اور اس کے رسول پر ایمان لانے سے خدا اعمال کو ضائع نہیں کرتا اور اور نہ ہی نا کام رکھتا ہے۔ بلکہ خدا تو آگے بڑھاتا اور بہت بڑھ چڑھ کر کامیابی عطا کرتا ہے ۔ ایک مومن نہیں چاہتا کہ دنیا کی نظروں کے سامنے آئے۔ مگر خدا تعالیٰ اسے ایسی بلند اور اونچی جگہ پر کھڑا کر دیتا ہے کہ جہاں ساری دنیا کی نظریں اس پر پڑتی ہیں۔ وہ نیچے بیٹھتا ہے مگر خدا اسے بلند مقام پر بٹھا دیتا ہے ۔ وہ اپنے منہ کو ڈھانپتا ہے مگر خدا تعالیٰ اس کی نقاب کو پھاڑ پھاڑ کر دنیا پر ظاہر کرتا ہے۔ یہ ہوتا ہے خدا اور اس کے رسول پر ایمان لانے کا نتیجہ، لیکن وہ جو خدا اور اس کے رسول کا محض نام لیکر خود نفع اُٹھانا چاہتا ہے۔ دنیا میں عزت اور شہرت کو چاہتا ہے خدا اس کی پروا نہیں کرتا اور اسے ذلت اور ناکامی کے گڑھے میں گرا دیتا ہے۔ پس وإِن تُطِيعُوا الله وَرَسُولَهُ لَا يَلِتَكُمْ مِنْ أَعْمَالِكُمْ شَيْئًا إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو گے تو وہ تمہار سے اعمال سے تمہیں کچھ کم نہیں دے گا ۔ یا یہ نہیں کہ وہ تمہیں ذلیل اور رسوا ہونے دیگا۔ بلکہ خود تمہارا کفیل ہو گا۔ اور تمہاری کامیابی کے خود سامان مہیا کر دیگا ۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ غفور الرحیم ہے ۔ یہ کیا عجیب دلیل ہے اس بات کے متعلق کہ اللہ تمہارے اعمال میں کمی نہیں کریگا ۔ بلکہ پورا بدلہ دے گا ۔ فرمایا وہ غفور ہے وہ تو گناہگار اور غلطی کرنے والوں کو بھی جبکہ وہ تو یہ کرتے ہیں بخش دیتا ہے اور ان پر اپنا فضل کرتا ہے۔ پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ تم اس کے لیے عمل کرو۔ اور وہ تمہیں اس کے بدلہ میں نقصان میں رہنے دے کیا وہ جو پشیمان کو معاف کرتا اور اسے انعام سے مالا مال کرتا