خطبات محمود (جلد 6) — Page 75
گمراہ ہونے کا تیجہ نہیں نکلتا۔ یا پھر باقیوں میں سے فتوی وغیرہ کے لحاظ سے اور مطاع تھے۔ مثلاً حضرت مولوی عبد الکریم رضی اللہعنہ حضرت مولوی نور الدی رضی اللہ نہ دیگر باوجود اسکے یہ کوئی نہیں کرسکتا کہ باقی سب گمراہ تھے۔ کیونکہ وہ علم و عرفان ان میں نہ تھا۔ کیوں ؟ اکثر لوگ علم پڑھے ہوتے نہیں ہوتے۔ اور پڑھتے ہوتے بھی ہوں تو اس کے ساتھ تقویٰ اور عرفان ضروری چیز ہے ۔ اس لیے ایسے لوگ جو پڑھے ہوئے نہ ہوں یا علم وعرفان نہ ہو وہ طن کی پیروی کرتے ہیں۔ قیاس کرتے ہیں۔ مگر اس کے ساتھ وہ علم صحیح کی بنا پر بین نہیں کر سکتے۔ اور اس طرح پر حقیقی تشریح نہیں ہوتی۔ بہت لوگوں سے پوچھ کر دیکھ لو کہیں گے کہ میرے خیال میں یوں ہے۔ یہ نہیں کریں گے کہ قرآن مجید کی بنیات کی بنام پر کہتے ہوں۔ علم اور عرفان کی کی کی وجہ سے یہ بات ہوتی ہے۔ غرض جو علم و عرفان والا ہوا سکی اتباع کرواس آیت میں مسلمانوں کو اسی بات کی طرف توجہ دلاتی ہے کہ گمان کرنے والے اٹکل پچھ باتیں بنانے والے نہ ہو بنانے بنو واقفیت علم کی ان سے حاصل کرو جو علم و عرفان سے ماہر ہوں ۔ اگر کوئی شخص کسی جاہل سے پوچھ کر عمل کرے تو اس کا یہ کہ دینا کہ میں نے فلاں سے پوچھ لیا تھا محبت نہیں ہو گا پیس یا درکھو کہ قابل اطاعت قلیل ہی ہوتے ہیں خواہ بہ لحاظ مسائل اصولی کے خواہ بہ لحاظ مسائل تفصیلی کے ۔ دیکھو اگر ایک جاہل زمیندار سے خدا تعالیٰ کے موجود ہونے اور اس کی ذات یا عرش کے متعلق سوال کرور وہ یونہی کچھ خیالات ظاہر کر دے ۔ اور تم یقین کر لو تو یقینا اس کا نتیجہ گمراہی ہوگی پس یہاں ہیں تعلیم ہے کہ قابل اطاعت قلیل بلکہ اہل ہوتے ہیں۔ ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ی نگاہ ہوتا کہ یہ اصول قرار دیا جائے گا کہ اکثر حصہ گمراہ ہوتا ہے تو اس سے اسلام پر سخت حملہ ہوگا۔ ہیں لیے اس حقیقت پر غور کرو جو اس میں بیان کی گئی ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ لاکھوں کی زبان پر یہ آیت جا رہی ہے مگر اسکے مضمون پر غور ہیں کیا گیا۔ اس لیے اسکول کو کو قرآن مجید مدیا کام اور عرفا اس لیے ہمیشہ اس اکھوں کو مضبوط پکڑے رکھو کہ جو شخص قرآن مجید حدیث کا علم اور عرفان نہیں رکھنا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام پر اس نے تفقہ نہیں کیا اس کا حق نہیں کہ وہ فتوی دے یہ ایک معنی اس آیت کے ہیں جن کو لوگوں نے نہیں سمجھا اللہ تعالیٰ ہم کو توفیق دے۔ آمین : الفضل جولاتی شاملة )