خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 76 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 76

44 15 جد امراء توجہ کریں فرموده ۲۳ را گست ۱۹۱۷ه حضور نے تشد و تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد مندرجہ ذیل آیت پڑھ کر فرمایا: "وَاعْلَمُوا أَنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ وَانَّ اللَّهَ عِنْدَهُ اجر عظيم - (انفال رکوع ۳) ہر ایک کام کیلئے نہایت ضروری ہوتا ہے کہ انسان اس کے متعلق جسقد رامور ہیں ان سیکو مدنظر رکھے مثلا کسی کام کے کرنے سے پہلے ضرورت ہے کہ سوچا جائے کہ اس کی غرض کیا ہے ؟ اور اس کے کرنے سے کیا فائدہ ہوگا۔کیا ضرورت ہے اور کون سے ذرائع ہیں جن سے وہ کام کامیابی کے ساتھ ہوسکتا ہے اور کیا ہو گئیں ہیں جو اس کے رستہ میں حائل ہیں۔اگران باتوں پر غورنہ کیا جائے توپھر کامیابی نہیں ہوسکتی مثلاً کوئی شخص کسی کام کو شروع کرتا ہے لیکن وہ نہیں جانتا کہ اس میں فوائد کیا ہیں۔تو وہ ہر گنہ باوجود اس کام کے کرنے کے اس میں اسقدر محنت نہیں کریگا جسقدر محنت کرنے کی ضرورت ہوگی اور نہ وہ اسقدر محنت کرنے کے لیے تیار ہو سکتا ہے اس کی کوشش اُدھوری رہے گی۔اس کا جوش سرد ہوگا ، لیکن اگر اس نے غور کیا ہوگا اور اسے معلوم ہوگا کہ یہ کام کنا مفید ہے اور اس پر یہ ثابت ہوگیا ہوگا کہ اس کے کرنے سے مجھے کتنے فوائد حاصل ہونگے تو پھر اس کی توجہ ہمہ تن اس کی طرف لگ جائیگی۔ثلاً جنگ ہے۔یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کی قوموں نے بھی کی اور آپ کے وقت بھی ہوئی کئی فاتح اُٹھے ان میں ایسے بھی ہوتے ہیں جو قریب ساری دنیا پر پہنچ گئے۔ان میں سے ایک تو تیمور ہے اور ایک حد تک نپولین ہیں کی فتوحات یورپ اور افریقہ میں تھیں۔ان سے پہلے سکندر اور سکندر سے پہلے ایرانیوں نے بھی کئی فتوحات حاصل کیں۔مگر آج جو حالت ہے وہ پہلے نہیں تھی جیسی کوشش سے آج جنگ ہو رہی ہے۔ویسی کبھی پہلے نہیں ہوتی۔پہلی جنگیں بادشاہوں کی جنگیں تھیں۔اور تھوڑی ایسی جنگیں تھیں جنکو رعایا نے اپنی جنگ خیال کیا۔سوائے ان جنگوں کے جو آنحضرت صلی اللہ علی وسلم