خطبات محمود (جلد 6) — Page 61
41 مگر تا ہم جماعت کے اعمال اور حالات میری نظر سے پوشیدہ نہیں رہے ۔ میں آپ پ لوگوں کے سامنے اس بات پر افسوس کتے بغیر نہیں رہ سکتا کہ ہماری جماعت جماعت ؛ میں ابھی ایسے لوگ ہیں جو ہر وقت نگرانی چاہتے ہیں۔ اور ان کی حالت ایسے بچوں کی سی ہے کہ جن سے ماں باپ نے ذرا غفلت کی اور اپنی نگرانی کو ہٹایا تو لڑنے جھگڑنے میں لگ گئے۔ یہ نہیں کی حالت نہیں باہر کی جماعتوں کی بھی یہی حالت ہے ۔ ذرا توجہ ہٹی تو ان کے قادیان کے ساتھ تعلقات میں سستی پیا ہوگئی۔ گویا وہ ایک انتظام کے ماتحت تو جھاڑو کی سینکوں کی طرح بندھے ہوتے ہیں مگر توجہ ہٹنے کے ساتھ ہی تنکوں کی طرح بکھر جاتے ہیں۔ ان ایام میں بیرو نجات سے ایسے خطہ آتے ہیں کہ نہیں اب خوب سمجھ آگئی ہے کہ خلافت کی ضرورت ہے لیکن یہی کافی نہیں ہے کہ ان کو خلافت کی ضرورت معلوم ہوگئی ہے بلکہ ضرورت اس امر امر کی ہے کہ وہ خلافت سے فوائد حاصل کریں ۔ میں یہاں کے دوستوں اور بیرونی احباب کو بلانا چاہتا ہوں کہ خدائی سلسلوں کا کسی خاص شخص سے تعلق نہیں ہوا کرتا ۔ بڑے سے بڑا وجود جو دنیا میں آیا اور آسکتا تھا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود مبارک تھا۔ مگر با وجود استقدر بلند شان کے آپ کی وفات سے بھی اسلام مٹ نہیں گیا۔ خدا کی طاقت کمزور نہیں ہوگئی۔ وہی خدا جو پہلے تھا۔ اب بھی ہے۔ وہی اس کی قدرت نمائیاں ہیں۔ خدا کی قدیم سے دو سنتیں ہیں کہ انبیاء اور ان کے ماننے والے ابتدا دنیاوی لحاظ سے بڑی حیثیت اور مال والے لوگ نہیں ہوتے۔ ان کی فوجیں اور ملک نہیں ہوتے۔ کیونکہ اگر وہ لوگ بڑے بڑے ملکوں اور فوجوں والے ہوں تو لوگوں کو یہ خیال ہو کہ شاید یہ ان فوجوں کے ذریعہ ترقی پاگئے ۔ چونکہ غیور خدا اس امر کو پسند نہیں کرتا کہ اس کے کام کسی انسان کی طرف منسوب کئے جائیں۔ اس لیے اس کے انبیایمہ اور ان کے متبعین ابتدا میں دنیاوی شان و شکوہ کے مالک نہیں ہوتے بلکہ لوگوں کی نظر میں حقیر ہوتے ہیں ۔ خدا تعالیٰ کی دوسری یہ سنت ہے کہ اپنی کامل قدرت نبی کی وفات کے بعد دکھاتا ہے اور تھوڑی سی کی زندگی میں بھی ظاہر کرتا ہے تاکہ جھوٹ اور بیچ میں تیانہ ہو سکے اور حق کو ڈھونڈنے والوں کے لیے ایک ذریعہ مہیا ہو جائے ۔ نبیوں کے بعد پورے طور پر وہ اپنی قدرت نمائی اس لیے کرتا ہے کہ اگر انبیاء کی زندگی ہی میں خدا کی قدرت کا پوری طرح ظہور ہو تو بعض لوگوں کو خیال ہو سکتا ہے کہ وہ لوگ چست اور چالاک تھے اس لیے اپنی تدابیر میں کامیاب ہو گئے۔ ورنہ ان کی کامیابی سے حق و باطل کا کوئی تعلق نہیں ۔ اس لیے خدا تعالی یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ اگر وہ اس قدر ہوشیار ہونے اور خدا