خطبات محمود (جلد 6) — Page 59
۵۹ 12 مصائب میں قدم آگے ہی بڑھے فرموده ۲۱ ارجون شاشته) حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد مندرجہ ذیل آیات تلاوت فرمائی :- وَلَمَّارَ المُؤْمِنُونَ الْإِحْزَابَ قَالُوا هَذَا مَا وَعِدْنَا اللَّهُ وَ رَسُولُهُ وَصَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ وَمَا زَادَهُمُ الا ايمَانًا وَتَسْلِيمًا۔ (سورۃ احزاب : ۲۳) اللہ تعالیٰ کی کسی حکمت کے ماتحت تین مہینہ کے بعد مجھ کو آپ لوگوں کو کچھ سنانے کا موقعہ ملا ہے خطبه جمعه در حقیقت مسلمانوں کو ان کے فرائض سے آگاہ کرنے کا ایک ذریعہ ہے ۔ جیسے رسول اللہ صلی للہ علیہ وسلمنے مقرر فرمایا ہے اور رسول کریم نے کیا خود خدا نے ہی مقرر فرمایا ہے ۔ در حقیقت انسان کی عادت کو ہم دیکھتے ہیں کہ اگروہ اپنے فرائض سے بار بار آگاہ نہ کیا جائے تو غافل ہو جاتا ہے ہوائے اس شخص کے جس کا دل ایسا منفی اور محلی ہو جاتے۔ اور اس کو رویت کا مقام حاصل ہو جائے ۔ ایسے شخص کے علاوہ باقی کے بانی ا رفر تمام انسان بار بار کی آگاہی اور تنبیہ کے محتاج ہیں حتی کہ اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ بھی اس کے محتاج تھے ۔ ایک صحابی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور عرض کیا کہ میں تو منافق معلوم ہوتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا کس طرح ۔ اس نے کہا کہ جب حضور کے سامنے آتا ہوں تو دوزخ اور جنت دونوں میرے سامنے آجاتے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ جنت ہے ۔ اگر میں خدا کی اطاعت کروں گا تو اس میں مجھ کو جگہ دی جائے گی اور اگر اس کی نافرمانی کروں گا تو یہ دوزخ ہے اس میں مجھے ڈال دیا جائے گا۔ لیکن جب حضور کے پاس سے چلا جاتا ہوں تو یہ حالت نہیں رہتی۔ آ رہتی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا له ابن ماجه کتاب اقامة الصلوة باب ما جاء فى الاسماع للخطبة والانصات