خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 58

۵۸ رہا ہے اور لوگ پروا نہیں کرتے۔ لڑائیوں اور جھگڑوں میں لگے ہوتے ہیں۔ شاید یہ خیال کرتے ہوں کہ ہم اپنی جان بچالیں گے مگر یہی حالت قائم رہی۔ اور اتفاق و اتحاد نہ رہا تو پھر کوئی ترقی نہیں جو وہ کر سکیں۔ اور کوئی طاقت نہیں جو ان میں اتفاق پیدا کر سکے مگر جب اللہ چاہیے۔ پس چاہیتے کہ تمام لوگ اپنے کاموں کو سوچ سمجھ کر کیا کریں۔ اور کوئی بات ایسی نہ کیا کریں جس سے اتفاق و اتحاد کو نقصان پہنچتا ہو۔ معمولی معمولی باتوں پر جھگر نا نہایت خطرناک ہوتا ہے مگر جب دیکھو ایسی ہی باتوں پر جھگڑے ہوتے ہیں۔ حالانکہ یہ وقت ایسی بیہودہ باتوں پر لڑائی کر کے ضائع کرنے کا نہیں ہے۔ کیونکہ اس وقت اسلام کی موت و حیات کا مسئلہ درپیش ہے ۔ اس قسم کی بے ادبیوں اور سرکشیوں سے جو ادنی ادنی باتوں میں ظاہر کی جاتی ہیں پارٹیاں بن جاتی ہیں اور وہ نعمت جس کو اتفاق و اتحاد کہا جاتا ہے اور جو محض خدا کے فضل سے ہی ملتی ہے بے وجہ ضائع ہو جاتی ہے اور مجموعی قوت جو جماعت میں ہوتی ہے۔ ان پارٹی بازیوں اور تفرقہ پردازیوں سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتی ہے ۔ پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ ان چھوٹی چھوٹی باتوں میں پڑتا ۔ اور ذرا ذرا سی باتوں پر بحث و تکرار اور بے ادبی و سرکشی اور نفس کی اطاعت نہیں کرنی چاہیے اور وہ وقت جو اس قسم کے جھگڑوں میں ضائع کیا جاتا ہے ۔ اگر قرآن کریم کی کسی آیت پر غور کرنے میں صرف کیا جاتے تو ممکن ہے کہ کوئی نکتہ ہاتھ آجاتے" الفضل و ر ا پریل شاله )