خطبات محمود (جلد 6) — Page 571
۵۷۱ تکلیف اسی وقت ت تک ہوتی ہے جب تک اصل علاج مہیا اور دریافت نہ ہے نت نہ ہو، لیکن جب علاج دراسات ہو جاتے۔ تو خواہ کوئی کتنا ہی سرگردان پھرے ۔ آخر علاج کی طرف متوجہ ہونا پڑتا ہے ۔ آج یہ حالت ہے کہ تو وہ کوئی کتناہی سرگردان آخر متوجہ ہونا جب کوئی بیمار ہو ۔ تو معمولی آدمی بھی کہتے ہیں کہ یونانی طبیبوں سے کیا علاج کراتے ہو۔ شفا خانہ میں جاؤ۔ حالانکہ شفا خانوں کی قدر و قیمت ایک دن میں معلوم نہیں ہوگئی تھی ۔ بلکہ جب شفا خانے نکلے ہیں۔ اس تقرت عام خیال یہی تھا کہ انگریزی دو اگرم خشک ہوتی ہے ۔ استعمال نہ کی جائے۔ حضرت خلیفہ اول فرماتے تھے کہ ایک مریض کو دیکھنے آ گئے۔ وہاں ایک اور طبیب بھی بیٹھے تھے ۔ آپ نے فرمایا کہ تھرما میٹر بھی لگایا ہے۔ طبیب نے کہا کہ اگر تھرما میٹر لگانا ہے تو میں جاتا ہوں انگریزوں کی دوا گرم خشک ہوتی ہے اور مریض کو پہلے ہی خشکی ہے۔ حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ تھر میٹر کوئی دوا نہیں ۔ یہ تو ایک آلہ ہے جس کو مریض کے منہ میں یا بغل میں رکھ کر بخار کی کی میشی معلوم کرتے ہیں اس پر طبیب نے بے اختیار کہا کہ نہیں جی ان کی ہر ایک چیز گرم خشک ہوتی ہے، لیکن اب یہ کیفیت نہیں رہی ۔ لوگ اس قدر بدین نہیں بلکہ یونانی طب پر ڈاکٹری علاج کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ حالانکہ یونانی طب بھی بھی اپنے اندر فوائد رکھتی ہے۔ اس کے علاج میں زیادہ ناکامی کی وجہ یہ ہے کہ اس کے سامان نہیں اور اس کے کرنے والے خود پورے واقف نہیں ہوتے۔ اپنے وقت میں یہ طلب بڑی مفید چیز تھی، لیکن جس وقت یہ طلب نکلی ہوگی ۔ اس کو بھی لوگوں نے نہیں مانا ہو گا۔ آج کل بھی عام طور پر عورتیں نہ یونانی طب کی قائل ہیں نہ ڈاکٹری کی ۔ وہ کہا کرتی ہیں۔ علاج وہ ہیں جو مائیں جانتی ہیں ہیں جو بھی علم ہو۔ وہ ایک دن میں نہیں مان لیا تھا۔ بلکہ آہستہ آہستہ اس کو تسلیم کیا جاتا ہے ۔ اسی طرح خدا نے جو امن کا ذریعہ احمدیت تجویز فرمایا ہے۔ لوگ اس کو بھی مانیں گے مگر آہستہ آہستہ ۔ اور اس کو اس وقت مانا جا ئیگا جس وقت انسانی تجویز کردہ سب دروازے بند نظر آئیں گے۔ پس احمدیت امن کا واحد ذریعہ اور سر چشمہ ہے اور یہی وہ دواخانہ ہے جس سے لوگ شفا پائیں گے پھر اس سے زیادہ مجرم کون ہو سکتا ہے اور اس سے زیادہ دشمن کون ہے جو سر چشمہ کو گدلا کرنا چاہتا ہے وہ لوگ جو انگلستان ، ہندوستان - امریکہ یا دیگر ممالک کی حکومتوں کے خلاف ہیں۔ اور ان کو مٹانا چاہتے کے خلاف اور لا ہیں ۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی کسی کی انگلیاں کاٹے۔ مگر جو شخص احمدیت کا دشمن ہے۔ اور اس سر چشمہ کے بند کرنے کے درپے ہے ۔ اس کی مثال ایسی ہے۔ جیسے کہ کوئی کسی کا سر جدا کرلے یا دل نکال ہے۔ خدا نے سینکڑوں سال کے بعد یہ آفتاب چڑھایا ہے ۔ جو اس کو اپنے حسد سے چھپاتا ہے ۔ وہ بڑا خطرناک جرم کرتا ہے اور بڑی سزا کا مستی ہے، لیکن جو شخص اس کو مانتا اور اس علاج کی صحت کا