خطبات محمود (جلد 6) — Page 570
شخص کی جان خطرے میں تھی۔مگر دوسرے کے فضل سے بے شمار جانیں بلاک ہوگی۔کیونکہ پہلے نے ایک مریض تک دوانہ پہنچنے دی۔مگر دوسرے نے بہت سوں کی ہلاکت کا سامان کر دیا۔اس زمانہ میں جو فتنہ ہے لوگ اس سے نا واقف نہیں۔ہر جگہ سے آواز اُٹھ رہی ہے کہ ہم مفت میں ہیں۔ہم آفت میں ہیں۔کوئی جماعت اس وقت خوش نظر نہیں آتی۔بادشاہ نا خوش ہیں کہ رعایا ہم سے اچھا سلوک نہیں کرتی۔اور رعایا ناخوش ہے کہ بادشاہ ہم پر ظلم کرتے ہیں۔میاں بیوی سے خوش نہیں بیونی میاں سے ناراض ہے۔بیٹے والدین سے خوش نہیں۔والدین اولاد سے ناخوش ہیں۔اس وقت ایسی خستہ کی رو چلی ہے کہ حقیقی امن کہیں نظر نہیں آتا۔ایسی حالت دیکھ کر اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل ، رحم اور احسان سے یہ سلسلہ تجویز کیا اور اس کے ذریعہ امن قائم کیا۔اور امن کے قیام کے لیے ایک رستہ بنا دیا۔اور اس کے لیے اپنا شہزاد صلح بھیجدیا۔امن صلح سے پیدا ہوتا ہے۔فساد کیا چیز ہے۔دو شخص آپس میں لڑتے ہیں دو شخص لڑیں یا دو محلے یا دوشہر یا دو ملک یا دو قو میں لڑیں۔تو اس لڑائی کا نتیجہ فساد اور بے امنی ہوگی۔اور اگر قومیں یا ملک یا شہر یا محلہ یا افراد لڑائی چھوڑ دینگے تو امن ہو جائیگا۔پس لڑائی چھوڑ دینے کا ہی نام امن ہے۔الہ تعالیٰ نے حضرت صاحب کا نام صلح کا شہزادہ رکھ کے بتایا کہ اس کے ذریعہ امن قائم ہوگا اور لوگ مسیح موعود کے جھنڈے کے نیچے جمع ہو جائیں گے۔اس وقت یہ بات منسی بھی جاتی ہے اور اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسا کہ دو فوجوں کے درمیان ایک لڑکا جا کر کہدے کہ میرا کہنا مان پور میں صلح کرنا دوں گا۔جیسا اس بچے پر دونوں فوجیں نہیں گی۔ویسے ہی ہم پر لوگ ہنستے اور ہمیں پاگل بناتے ہیں۔مگر آج تک خدا کی طرف سے کونسی امن کی صورت آتی ہے کہ اس کو لوگوں نے ہنسی میں نہیں اُڑایا۔لیکن جو لوگ مسیح موعود پر ایمان رکھتے ہیں۔اور خدا تعالیٰ پر ایمان اور اس کے وعدوں پر یقین رکھتے ہیں ان کے نزدیک تو یہ بات یقینی ہے کہ امن اگر قائم ہو گا۔تو اسی ذریعہ سے۔یہ ہو نہیں سکتا کہ خدا کی تدبیر ناکام رہے۔اگر ایک دفعہ بھی ایسا ہو کہ بندوں کی تدبیر کے مقابلہ میں خدا کی تدبیر نا کام رہے۔توپھر خدا کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔کیونکہ اس خدا کی کیا ضرورت ہے۔جس کا بتایا ہوا علاج بندوں کے تجویز کردہ علاج سے ناقص ہو۔پس اگر مسیح موعود خدا کی طرف سے میں تو دنیا کا امن اور امان آپ ہی کے ماننے میں ہے۔اور اب دنیا میں امن آپ کے ماننے والوں ہی کے ذریعہ قائم ہو سکتا ہے۔امن کا سر چشمہ احمدیت ہے یہ ہسپتال ہے اور دنیا کا علاج اسی سے ہو گا۔