خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 561 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 561

L ۵۶۱ 103 جلسہ سر پر ھے منتظمین جلسہ اور مہمانوں کا فرض اخلاص کیسا تھ تربیت چاہیئے فرموده ۳ ر و سمبرشته ) تشتد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا :- ترقی کرنے والی قوموں کے ساتھ یہ بات لازمی طور پر لگی ہوتی ہے کہ ان کی ضروریات مہیشان کی آمدنی کے ذرائع سے بڑھی رہتی ہیں۔ اور جس قوم کی ضروریات ذرائع سے زیادہ نہ ہوں۔ اس کے یہ معنے ہیں کہ اس میں سوچنے والے دماغ نہیں۔ ترقی کرنے والوں میں ہمیشہ ایسے دماغ ہوتے ہیں۔ جو نئے نئے کہ اس والے والوں میں ہیں۔ جون نے کام سوچتے رہتے ہیں۔ اگر نہ ہوں تو وہ قوم ترقی کی طرف قدم نہیں بڑھا سکتی ۔ کیونکہ دنیا میں ترقی کی ایک رو چل رہی ہے اور ایک کشتی ہو رہی ہے۔ جو اس مقابلہ میں بڑھنے کی کوشش نہیں کرتا۔ وہ اپنے وجوہ کو قائم نہیں رکھ سکتا ہیں جماعت کی ترقی کے لیے ضروریات کا ہونا ضروری ہے کیونکہ اس کے ساتھ جماعت کے اعمال بھی ترقی کرتے رہتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ اسلام فرمایا کرتے تھے کہ اگر دشمن اعتراض نہ کرتے ۔ اور ابوجہل عقبہ شیبہ کا وجود نہ ہوتا ۔ تو قرآن بہت مختصر ہوتا۔ اس طرح معترض کا وجود بھی مفید ہو جاتا ہے۔ وہ اعتراض کرتا ہے تو اسلام کی تائید میں نئے نئے دلائل اور نئے نئے علوم نکلتے ہیں۔ اگر سب لوگ ہی حضرت ابو بکر نہ جیسے ہوتے اور اعتراض نہ کرتے تو نہ معجزات کا ظہور ہوتا۔ نہ آیات اللہ ظاہر ہوتیں۔ نہ خدا کی قدرت نظر آتی کیونکہ اس کی ضرورت ہی نہ ہوتی ۔ پس ترقی کے لیے ضروریات کا ہونا ضروری ہے۔