خطبات محمود (جلد 6) — Page 560
۵۶۰ دیکھ لیا تھا کہ وہ فرق ہو رہا ہے۔ اور فرق ہونے والے سے انہوں نے کیا ڈرنا تھا۔ ہاں اگر موسیٰ کو خوف تھا۔ تو خدا کے اس حکم کا کہ قولا لَهُ قَوْلاً لَمنا رطه : ۴۵) فرعون کے ه : ۴۵) فرعون کے پاس جاؤ ۔ اس سے نرم نرم باتیں کرو۔ اسی وجہ سے وہ فرعون سے نرمی کے ساتھ گفتگو کرتے تھے نہ کہ اس کے ڈر سے تو ہم گورنمنٹ کی اطاعت اس کے ڈر سے نہیں کرتے ، بلکہ خدا کے حکم کے ڈر سے کرتے ہیں۔ پھر ہمیں ہمارے آقا محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اگر کوئی ظالم بھی تم پر حاکم ہو تو اس کی اطاعت کر رہے پس ہم اگر کسی حکومت کی اطاعت کرتے ہیں۔ تو اس کے خوف سے نہیں بلکہ خدا اور خدا کے رسول کے احکام کے مطابق کرتے ہیں۔ حکومتیں اس سے زیادہ کیا کر سکتی ہیں کہ ایک شخص کو مروا دیں دیگر مومن موت سے نہیں ڈرتا۔ کیونکہ موت کے بعد وہ سمجھتا ہے کہ مجھے خدا تعالیٰ کی رضا اور جنت نصیب ہونگے جن میں میں رہوں گا۔ پس ہمارے لیے سوائے خدا کے کسی کا حقیقی خوف نہیں۔ کیونکہ ہم اس مقام پر ہیں جس کو خدا کی نفرتیں گھیرے ہوتے ہیں۔ ڈرایمان کی کمی کے باعث ہو سکتا ہے، لیکن مومن خدا کے سوا کسی سے خوف زدہ نہیں ہو سکتا۔ پس یاد رکھو کہ یہ تمام حکومتیں تمہارے آگے مغلوب ہو جائیں گی۔ مگر تلوار سے نہیں دلائل کے ساتھ اور صداقت کے ساتھ تم غالب ہو گے ۔ اس لیے خدا سے تائید یافتہ بے خوف ہوتے ہیں ۔ اللہ تعالی توفیق دے کہ ہماری جماعت اس امانت کو جو اس کے سپرد کی گئی ہے۔ پہنچائے اور اس کے فضل کے ساتھ کامیاب ہو۔ آئیے : الفضل وار دسمبر ته ) له مشكوة كتاب الفتن الفصل الاول