خطبات محمود (جلد 6) — Page 55
۵۵ ضائع ہو جائے گی۔ یا کوئی اور ذلت اسے پہنچ جائے گی۔ یا اس کے دل کا امن جاتا رہے گا۔ اسی قسم کی بہت سی سزائیں ہیں جو قانون شریعت کے خلاف کرنے والوں کو ملتی ہیں۔ ان میں سے کوئی نہ کوئی سزا انہیں ضرور ملے گی۔ مگر یہ نہیں ہوگا کہ ان کے لیے کوئی خاص سزا اسی طرح معین ہو جس طرح قوانین نیچر کے خلاف کرنے والوں کے لیے سزائیں مقرر ہیں۔ مثلاً یہ نہیں ہو گا کہ کوئی شخص آگ میں ہاتھ ڈالے تو اس کی ماں مر جائے۔ بلکہ آگ میں ہاتھ ڈالنے والے کا لازماً ہاتھ ہی چلے گا۔ کیونکہ ایسا کرنے والے کے لیے قانون قدرت نے کی سزا مقرر کی ہے۔ پھر شریعت کے قانون کے ماتحت جو سزائیں ہوتی ہیں وہ کئی قسم کی ہوتی ہیں۔ اور ہر درجہ کی منزا الگ ہوتی ہے۔ ایک بخیل کی سزا اس کا بچہ مرنا نہیں ۔ کیونکہ اس کو اولاد کی محبت ہی نہیں ۔ اس کا تو اگر ماں ضائع ہو تب اس کو دکھ ہو گا ۔ اس لیے اس کے لیے سزا مال کا ضائع ہوتا ہے۔ کیونکہ قانون شریعت میں سزا کی غرض اس شخص کو دکھ پہنچانا ہوتا ہے۔ مگر قانون نیچر کے باکت دُکھ پہنچا نا غرض نہیں ہوتا بلکہ ں ہوتا بلکہ ایک نتیجہ نکالنا من مد نظر ہوتا ہے۔ خواہ اس میں اس کو تکلیف ہو یا نہ ہو۔ اگر ایک ایسا مومن جو مال کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ بلکہ خواہش رکھتا ہے کہ میر سے ہاں اولاد ہو ۔ جو دین کی خدمت کرے۔ تو قانون شریعیت کے ماتحت اس کو مال دینا اور اولاد سے محروم رکھنا درست نہ ہوگا ۔ بلکہ اس کو اولاد ہی دی جائے گی ۔ کیونکہ اس کو خوش کرنا مد نظر ہوگا ، لیکن قانون قدرت میں ایسا نہیں ہو گا ۔ اس میں کسی فعل کا جو نتیجہ مقرر ہوگا ۔ وہی نکلے گا۔ تو اتفاق قوانین قدرت میں سے ہے۔ کیونکہ اگر اتفاق مٹ جاتے تو رعب جاتا رہتا ہے حکومت ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتی ہے۔ عزت برباد ہو جاتی ہے ۔ پھر جب اس کے ساتھ شریعت کا تعلق بھی ہوگا۔ تو اس کے مٹنے سے نتائج اور بھی خطرناک نکلیں گے۔ پس اتفاق و اتحاد کے اثرات ظاہر ہیں اور تمام دنیا ان کو جانتی ہے، لیکن پھر بھی بہت لوگ اس کی قدر نہیں کرتے۔ چنانچہ دنیا میں ایسی تو میں کثرت سے ہیں جن میں اتفاق نہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ اس قانون کی ضرورت کو مانتے تو ہیں مگر شخصی فوائد جب درمیان آجاتے ہیں تو اس کی قطعاً پرواہ نہیں کرتے ۔ لیکن میں نے بتایا ہے اور میرے بتانے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ ظاہر ہے کہ اتفاق واتحاد کا پیدا ہونا نہایت مشکل امر ہے۔ اور یہ محض خدا کا فضل ہوتا ہے اور جب کسی جماعت میں یہ پیدا ہو جائے۔ تو اس کی حفاظت کی بہت سخت ضرورت ہوتی ہے۔ چونکہ اتفاق بغیر خدا کے فضل کے پیدا نہیں ہو سکتا ۔ اس لیے اللہ تعالی نے قرآن کریم میں اس کو ایک نعمت قرار دیا ہے