خطبات محمود (جلد 6) — Page 537
۵۳۷ کی ان کی کوشش عارضی اور ان کا جوش وقتی ہوتا ہے۔ ایک دو تین چار پانچ چھ سال کام کر کے اپنے خیال میں نیشن لے لیتے ہیں۔ حالانکہ دینی معملات میں پیشن اس دنیا میں مل ہی نہیں سکتی اگلے جہان میں جا کر لے گئی ہیں ان کو پنشن نہیں ملتی۔ بلکہ ان کی مثال ایسی ہوتی ہے جیسا کہ کوئی شخصی ۱۵ - ۲۰ سال ملازمت کر کے استعفیٰ دیدے جس طرح اس غریب کی پندرہ میں سال کی ملازمت کا اسے کچھ بدلہ نہیں ملے گا۔ اسی طرح ان کا حال ہوتا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ خطرناک کیونکہ وہ اپنی عمر کی محنت کو رائیگاں کر دیتے ہیں۔ اور خدا تعالیٰ کی طرف سے جن فضلوں کے ملنے کی تیاری ہو رہی ہوتی ہے ۔ ان کو لات مار کر رد کر دیا جاتا ہے ۔ ایسی حالت میں جہاں میں دوبارہ اپنی جماعت کو یہ بات کہنا اپنا فرض منصبی سمجھتا ہوں وہاں یہ میرے لیے تکلیف دہ بھی ہے ایپس میں پھر توجہ دلاتا ہوں کہ ہماری جماعت اس بات کو سمجھے اور خوب یاد رکھے مگر یاد رکھنا کیا میں تو یہی کہونگا کر سن لے اور سمجھ لے۔ کیونکہ یاد تو وہی بات رکھی جاتی ہے جو سن اور سمجھ لی جائے مگر یہ بات تو ایسی ہے۔ جیسے ابھی بہتوں نے سنا ہی نہیں۔ اور اگر سنا ہے تو سمجھا ہی نہیں ہیں میں سہی نہیں کہتا کہ اس بات کو یاد رکھو۔ کیونکہ بہت کم ہیں جنہیں یاد رکھنے کے لیے کہا جا سکتا ہے ۔ اور بہت ایسے ہیں جنہوں نے سنا ہی نہیں۔ اس لیے میں کہتا ہوں ۔ وہ نہیں اور جنہوں نے کہنا ہے۔ وہ یاد رکھیں ۔ اور جنہوں نے یاد کر کے بُھلا دیا ہے ۔ وہ یاد کریں ۔ اور یاد رکھیں کہ تبلیغ اور پیچھے سلسلہ کی اشات مولویوں کے ذریعہ نہیں ہوا کرتی۔ مولویوں کا اور کام ہوا کرتا ہے۔ ان کی مثال خزانچی کی سی ہوتی ہے ۔ اور ان کا کام یہ ہوتا ہے کہ ہتھیاروں اور دوسرے سامان کو جمع کریں اور اس کی حفاظت کریں۔ وہ افسر لیڈر اور خزانچی کا کام دے سکتے ہیں۔ نہ یہ کہ تمام فوج ان سے بھرتی کی جائے ۔ جس طرح کوئی فوج ایسی نہیں ہوتی کہ جس میں تمام افسر ہی افسر ہوں اور وہ دشمن سے لڑکر فتح پائیں ۔ اسی طرح کوئی سلسلہ ترقی نہیں کر سکتا۔ جس کا سارا کام صرف علماء کے سپرد ہو۔ اور شریعت نے تبلیغ کا کام صرف علماء ہی کے سپرد نہیں کیا۔ بلکہ یہ کہا ہے کہ كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تا مُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَر (ال عمران (1) اس میں سب کو مخاطب کیا گیا یہ نہیں کہا کہ صرف علماء۔ لوگوں کو تبلیغ کرنے کے لیے پیدا کئے گئے ہیں۔ بلکہ یہ کہا ہے کہ تم سب دنیا کے فائدہ کے لیے پیدا کئے گئے ہو۔ ہے اور یہ نیس ہر ایک وہ شخص جو اسلام قبول کرتا ہے یا دوسرے الفاظ میں یہ کہ ہر ایکو مخفی شخص جو و احمدی قبول کرتا ہے اس کا فرض ہے کہ تبلیغ کرے۔ کیونکہ کوئی سلسلہ ترقی نہیں کرتا جب تک اس کی تبلیغی