خطبات محمود (جلد 6) — Page 53
11 اتفاق و اتحاد کے قیام کے لیے نصیحت فرموده ۲۲ مارچ حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد مندرجہ ذیل آیات تلاوت فرمائی :- وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَقُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عليْكُمْ اِذْكُتُتُهُ أَعْدَاءَ فَالَفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمُ فَاصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إخْوَانًا وَكُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُضْرَةٍ مِنْ النَّارِ فَانْقَذَكُمْ مِنْهَا حَذَالِكَ يبين الله لَكُمُ التِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ (آل عمران : ۱۰۳) دنیا میں نہایت اہم اور ضروری باتوں میں سے اتحاد و اتفاق و اجتماع کا خیال ہے لیکن باوجود اس کے کہ جس طرح فساد و افتراق کے نقصانات ظاہر میں اور کسی چیز کے شاید نہیں اور با وجہ اس کے که اتفاق و اتحاد کے فوائد بتین اور ظاہر ہیں شاید ہی کسی اور چیز کے ہوں گے۔مگر پھر بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ان کھلی کھلی باتوں اور بین علامات کے ہوتے ہوئے اتفاق کو حاصل کرنے اور فساد کو ترک کرنے کی لوگ کوشش نہیں کرتے۔دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ قوموں نے اتفاق کے ذریعہ ہی ترقی حاصل کی ہے اور وہ جماعتیں جو گو مالدار ہوں۔اور کثرت افراد کے لحاظ سے بھی بہت زیادہ ہوں۔وہ تفرقہ اور نفاق کی وجہ سے ان چھوٹی چھوٹی جماعتوں کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔جن میں جتھا اور اجتماع اور اتفاق و اتحاد پایا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جن جماعتوں نے ایک جان ہو کر پورے اتفاق و اتحاد سے اپنے سے بڑی بڑی طاقتوں اور جماعتوں کا مقابلہ کیا ہے وہ ضرور کامیاب ہوتی ہیں۔اور کوئی ان کا مقابلہ نہیں کر سکا۔اس سے اتفاق کے فوائد اور فساد کے نقصانات ظاہر ہیں۔لیکن لوگ با وجود اس کے اتفاق حاصل کرنے کی بہت کم کوشش کرتے ہیں اور بہت چھوٹے چھوٹے شخصی فوائد کے مقابلہ میں قومی خواند