خطبات محمود (جلد 6) — Page 527
۵۲۷ خوشی کے آثار ظاہر ہونے لگتے ہیں بعض دفعہ جسکے عیب بیان کئے جا رہے ہوں۔ وہ انکا دوست ہوتا ہے بعض دفعہ محسن ہوتا ہے اور بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ اسکے عیوب کے اظہار پر انکو نقصان بھی پہنچتا ہے مگر باوجود اس کے ان کو مزا آتا ہے۔ کیوں ؟ دنیا میں قلیل ہی ایسے اشخاص ہونگے جو اس کی وجہ بیان کر سکیں۔ اور جو مزا اٹھانے والے ہیں۔ وہ تو قریباً تمام کے تمام ایسے ہونگے کہ کوئی وجہ بیان نہیں کر سکیں گے مگر باوجود اس کے گھنٹہ گھنٹہ ایک شخص غیبت کرتا جائیگا۔ اور اس کے چہرہ سے ایسے آثار ظاہر ہونگے۔ کہ گویا اسے کوئی عظیم الشان کامیابی حاصل ہو رہی ہے۔ اور سننے والے بھی اتنے مشغول ہوتے ہیں کہ اگر کوئی ضروری کام کے لیے بھی بلاتے تو ناراض ہوتے ہیں۔ اور کہتے ہیں۔ ٹھرو بھی آتے ہیں کام کر رہے ہیں۔ اور ان کے بشروں سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انہیں کوئی ایسی خوشی کی بات معلوم ہوتی ہے جیسے کسی کے ہاں بیٹا پیدا ہو۔ یا کوئی جائیداد مل جائے یا حکومت اور عزت حاصل ہو گویا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دنیاوی انعام کی بڑی سے چیز ان کو مل گئی ہے ۔ جس پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں کبھی ہاتھ مارینگے کبھی سر ہلا تینگے کبھی مسکرائیں گے کبھی نہیں گے اور ایسے لطف کا اظہار کرینگے کہ انکی زیست کا مدار وہی بات ہے ، لیکن اگر پوچھو کہ کیوں مزا آرہا ہے ۔ اس کی کیا وجہ ہے ۔ تو قطعاً نہیں بتا سکیں گے۔ نہ بیان کرنے والا اور نہ سننے والے ۔ مگر کہیں چلے جاؤ کسی لک میں جو کسی علاقہ میں جا کسی قوم میں جاؤ۔ ہرجگہ اور ہر قوم کےلوگوں میں یہ بات پاؤ گے ۔ سب سے زیادہ حقیقت پر روشنی ڈالنے والا مذہب اسلام ہے۔ اس کی طرف منسوب ہونے والے لوگوں میں بھی ایسے نظر آئیں گے۔ جو ایک دوسرے کی غیبت کر رہے ہونگے۔ ایک بہت قدیم تہذیب کے مالک ہندو ہیں۔ جن کے اس دعوی کو ہم قبول کریں یا نہ کریں کہ ان کی تہذیب دنیا کے ابتداء سے چلی آتی ہے۔ مگر اتنا تو ماننا پڑیگا کہ ان کی روایات نہایت قدیم ہیں۔ اور ان کے تمدنی قواعد بہت لیے عرصہ سے چلے آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ان کے نیچے ایسے دیے ہوتے ہیں که گویا ان کی فطرت میں داخل ہو گئے ہیں ۔ اس قوم میں بھی یہ بات پاؤ گے کہ غیبت کرنے والے کو بھی مزا آتا ہو گا اور سننے والے کو بھی۔ پھر ان لوگوں میں چلے جاؤ ۔ جو کہتے ہیں کہ ہم نے علم اخلاق کے ابواب کو کھول کھول کر پڑھ لیا ہے او جو کہتے ہیں کہ رکھتے ہیں کہ ہم اخلاق کے اس اعلیٰ درجہ پر پہنچ چکے ہیں کہ ہمارا حق ہے تمام دنیا پر حکومت کریں اور لوگوں کو تہذیب ۔ تمدن اور اخلاق سکھائیں ۔ ان میں تبھی یہی بات نظر آئیگی۔ اور عام لوگوں : میں ہی ہے" نہیں۔ بلکہ ان کے اعلیٰ طبقہ کے لوگوں ۔ فلاسفروں ۔ سیاست دانوں محققوں میں بھی پائی جائے گی۔