خطبات محمود (جلد 6) — Page 526
۵۲۶ مشکل ہوتا ہے جن کے کرنے میں لطف حاصل ہو۔ اور فائدہ نظر آتا ہو۔ بہ نسبت ان کے جن کے کرنے میں کوئی فائدہ اور لطف نہ آتا ہو۔ آج میں ان میں سے ایک ایسے امر کے متعلق بیان کروں گا جس میں بظاہر یہ نفع ہوتا ہے اور نہ لطف ، لیکن عادتا کہو یا بعض ایسے مخفی احساسات کی وجہ سے جن کو ابھی تک کم از کم میںمحسوس نہیں کر سکا۔ انسان کو لطف معلوم ہوتا ہے۔ گو بظاہر لطف کی کوئی وجہ نہیں ہوتی ۔ اور بہت کام ایسے ہیں جن میں لطف کی بظاہر کوئی وجہ نہیں ہوتی مگر لوگوں کو مزا آتا ہے ۔ یا کم از کم ہے ایسے لوگوں کو مزا آتا ہے۔ جن کی روحانیت درست نہ ہو۔ مثلاً اگر کوئی شخص راستہ چلتے چلتے گر جائے تو بہت اُسے دیکھ کر ہنس پڑینگے۔ اور ان کی ہنسی رک نہیں سکے گی۔ حتی کہ اگر وہ کسی ایسے کام مشغول ہوں جس میں ہنسنا جائزہ نہ ہو ۔ مثلاً نماز پڑھ رہے ہوں تو اس وقت بھی انہیں مہنسی آجاتے گی۔ اس کی وجہ کیا ہے۔ یہ ایک بہت باریک اور مخفی مسئلہ ہے اور جب تک انسانی خیال کالمبا مطالعہ نہ کیا جائے ۔ اس کی وجہ معلوم کرنا مشکل ہے اور پھر وہ وجہ بھی ایسی باریک ہوگی کہ اس کے متعلق یقینی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا کہ درست ہوگی۔ اسی طرح لوگ پاگل اور مجنون پر ہنستے ہیں۔ حالانکہ وہ قابل رحم ہوتا ہے نہ کہ منی کے قابل ، لیکن س کی حرکات کودیکھ کر اور بتوں کو شکر اچھے اچھے سنجیدہ لوگ ہنسنے لگ جاتے ہیں۔ ان کو کیوں نہیں آتی ہے ؟ اس کی کوئی معقول وجہ نہیں ہوتی ۔ پاگل کی دیوانگی کی حرکات کو دنا۔ بھاگنا ننگا ہونا۔ بکواس کرنا کیا لطف رکھتی ہیں۔ اور ان سے لوگوں کو کیا مزا آتا ہے ۔ اس کی کوئی وجہ وہ بیان نہیں کر سکتے ۔ یاء یا عام طور پر ہر انسان بیان نہیں کر سکتا۔ سوائے اس کے جس نے انسانی خیالات کا ایک لمبا تبع کیا ہو۔ لیکن وہ بھی یقین سے نہیں کہ سکتا کہ یہ وجہ سمیع ہے۔ ابھی یہ تحقیقاتیں بچپن کی حالت میں ہیں ۔ اور ان کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ۔ مگر اس میں شک نہیں۔ لوگوں کو مزا آتا ہے۔ پاگلوں کی حرکات پر اور گرنے والوں پر ۔ اسی طرح اور کئی باتیں ہیں۔ جن میں لوگوں کو مزا آتا ہے ۔ حالانکہ مزے کی کوئی وجہ نہیں ہوتی ۔ وہ بات جو میں اس وقت بیان کرنے لگا ہوں ۔ وہ بھی ایسی ہی ہے۔ اس میں بھی لوگ مزا پاتے ہیں۔ مگر اس کی انہیں کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی ۔ وہ کیا ہے وہ غیبت ہے ۔ اس کے متعلق ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی لطف کی وجہ نہیں ہوتی مگر ایک شخص دوسرے شخص کے عیب بیان کرتا ہے اور دیکھنے والا دیکھتا ہے کہ سننے والے کو بڑا مزا آرہا ہے۔ اسی طرح بیان کرنے والے کو بھی اور جوں جوں زیادہ تشریح کرتا جاتا ہے ۔ ان کے چہروں سے